بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں اولاد پر مال تقسیم کرنا


سوال

والدین زندگی میں اپنا مال تقسیم کرنا چاہتے ہیں، جن کے دو بیٹے، اور تین بیٹیاں زندہ ہیں۔ شریعت کے مطابق راہنمائی فرمائیں۔

جواب

         شریعت مطہرہ کی رو سے اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو اس میں بہتر یہی ہے کہ  تمام اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں ) کو برابر حصہ دیا جائے؛ کیوں کہ زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا شرعا ہبہ کے حکم میں داخل ہے ، اور ہبہ کے معاملے میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرنا چاہیے۔ تا ہم بیٹوں کو بیٹیوں کا دگنا دینا بھی جائزہےنیز اگر کوئی بچہ معذور ہو ، یا  زیادہ محتا ج ہو، یا زیادہ تابع داراور خدمت گزار   ہو، یا زیادہ دین دار ہو ؛ تو ایسی صورت میں ترجیحی سلوک کی گنجاِش ہے۔

وَيَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْدِلَ بين أَوْلَادِهِ في النَّحْلَى لِقَوْلِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ﴿ إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ ﴾وَأَمَّا كَيْفِيَّةُ الْعَدْلِ بَيْنَهُمْ فَقَدْ قال أبو يُوسُفَ الْعَدْلُ في ذلك أَنْ يُسَوِّيَ بَيْنَهُمْ في الْعَطِيَّةِ وَلَا يُفَضِّلَ الذَّكَرَ على الْأُنْثَى وقال مُحَمَّدٌ الْعَدْلُ بَيْنَهُمْ أَنْ يُعْطِيَهُمْ على سَبِيلِ التَّرْتِيبِ في الْمَوَارِيثِ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن .(بدائع الصنائع،کتاب الھبۃ،۸/۱۱۳ )


فتویٰ نمبر : 4666/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں