بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
اقدام خودکشی سےتوبہ کاطریقہ
سوال
ایک شخص نے اپنےآپ کو گولی ماری لیکن وہ بچ گیا اور بعد میں اس کو اپنے کئے ہو ئے کام پر افسوس ہوا، اب ہو توبہ کرنا چا ہتا ہے تو اس کا کیا طریقہ ہو گا؟
جواب
آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ "اے ابن آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جا ئے اور تو مجھ سے مغفرت چاہے تو میں تجھ کو معاف کردوں گا اور مجھ کو اس کی کوئی پرواہ نہ ہو گی" نیز آپﷺ نے فرمایا کہ"گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو" اللہ تعالی اپنے بندےکی توبہ سے بہت خوش ہوتےہیں،اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ،اور بندگی کا بہترین مظاہر ه توبہ کے وقت ہو تا ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر چہ مذکورہ شخص نےخودکشی کر کےگناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے،لیکن بفضل خداوندی جب کہ وہ اس مجر مانہ فعل کے برے اثر سے محفوظ رہا ہے ،تو اگر یہ شخص تو بہ کرنا چا ہتا ہے، توتوبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وه اس گناہ پر تہہ دل سے نادم وپشیمان ہوکراللہ تعالی سے جرم کی معافی طلب کرے اور آیندہ یہ جرم نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔
عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لو أخطأتم حتى تبلغ خطاياكم السماء، ثم تبتم، لتاب الله عليكم»(سنن ابن ماجة،باب ذكرالتوبة،ص:323)
قال الطيبي: والتوبة في الشرع ترك الذنب لقبحه، والندم على ما فرط منه، والعزيمة على ترك المعاودة وتدارك ما أمكنه أن يتدارك من الأعمال بالإعادة. (مرقاة المفاتيح،كتاب الدوات،باب الاستغفاروالتوبة،ج:5،ص:151)
ما أخرجه ابن مردويه عن ابن عباس قال : قال معاذ بن جبل : يا رسول الله ما التوبة النصوح قال :" أن يندم العبد عل الذنب الذي أصاب فيعتذر إل الله تعالى ثم لا يعود إليه كما لا يعود اللبن إلى الضرع"(تفسيرروح المعاني،ج:28،ص:157)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں