بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

آیت ﴿ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ﴾میں الانسان کی تفسیر


سوال

 آیت مبارکہ ﴿ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ﴾کی تفسیر میں صاحب جلالین نےانسان سے کافر مراد لیا ہے، حالانکہ امام بخاری ؒ نے "باب تحریض النبی ﷐ علی قیام اللیل والنوافل"کے تحت یہ روایت نقل کی ہے أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَيْلَةً، فَقَالَ: أَلاَ تُصَلِّيَانِ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے مطلق انسان مراد ہے۔ وضاحت فرمائیں۔

جواب

                آیتِ مبارکہ ﴿ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ میں الانسان کی تفسیر میں مفسرین  کی دو   رائے ہیں ۔ پہلی رائے بعض مفسرین جیسے  علامہ زجاجؒ ، کی ہے کہ مذکورہ آیت میں "الانسان" سے مراد کافر ہے ۔ یہ حضرات مابعد والی آیت کے اس حصے﴿ ويجادل الذين كفروا بالباطل ﴾سے استدلال کرتے ہیں کہ اس میں مجادلہ بالباطل صراحت کے ساتھ کفار کی صفت منقول ہے، اس لیے ﴿ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾میں بھی انسان سے کافر ہی مراد ہوگا۔

                 دوسری رائے یہ ہے کہ  آیت میں "الانسان" عام ہے کافر کے ساتھ خاص نہیں ۔ یعنی انسان کی طبیعت میں ملائکہ وغیرہ کی نسبت سے مجادلہ کی صفت زیادہ ہے ۔

                 ان دونوں تفسیروں میں مفسرین حضرات کے نزدیک دوسری تفسیر راجح ہے، جیسا کہ امام بغویؒ ،  علامہ آلوسی ؒ، اور علامہ محمد شوکانی ؒ نے اس کی تصریح کی ہے، اس کی تائید سوال میں مذکور حضرت علی ﷛کی روایت سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ اس حدیث کی تشریح میں علامہ ابن حجر عسقلانیؒ اور علامہ بدر الدین عینی ؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے ان حضرات کی تفسیر کا راجح ہونا معلوم ہوتاہے جنہوں نے آیت کو عموم پر محمول کیا ہے۔

 

﴿ وَكَانَ الإنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا ﴾ خصومة في الباطل، قال ابن عباس: أراد النضر بن الحارث وجداله في القرآن۔۔۔۔وقيل: هي على العموم، وهذا أصح.(معالم التنزيل للبغوي،ج:3،ص:168)

والظاهر أنه ليس المراد إنسانا معينا وقيل المراد به النضر بن الحرث وقيل ابن الزبعري وقال ابن السائب أبي بن خلف ۔۔۔۔۔والأول أولى ويؤيده ما أخرجه الشيخان وابن المنذر وابن أبي حاتم عن علي كرم الله تعالى وجهه۔(تفسير روح المعاني، ج:15،ص:300)

وترجيح قول من قال أن اللام في قوله وكان الإنسان للعموم لا لخصوص الكفارز(فتح الباري، كتاب التهجد، باب تحريض النبي ﷐على صلوة الليل، ج:3،ص:316)

وفيه ترجيح قول من قال إن اللام في قوله وكان الإنسان للعموم لا لخصوص الكفار۔(عمدة القاري، كتاب التهجد، باب تحريض النبي ﷐على صلوة الليل،ج:7، ص:175)

﴿ وكان الإنسان أكثر شيء جدلا ﴾ قال الزجاج : المراد بالإنسان الكافر واستدل على أن المراد الكافر بقوله تعالى : ﴿ ويجادل الذين كفروا بالباطل ﴾ وقيل المراد به في الآية النضر بن الحارث والظاهر العموم وأن هذا النوع أكثر الأشياء التي يتأتى منها الجدال جدلا ويؤيد هذا ما ثبت في الصحيحين وغيرهما من حديث علي أن النبي صلى الله عليه و سلم طرقه وفاطمة ليلا فقال : ألا تصليان ؟ فقلت : يا رسول الله إنما أنفسنا بيد الله إن شاء أن يبعثنا بعثنا فانصرف حين قلت ذلك ولم يرجع إلي شيئا ثم سمعته يضرب فخذه ويقول ﴿ وكان الإنسان أكثر شيء جدلا ﴾ (فتح القدير لمحمد الشوكاني، ج:3،ص:422)


فتویٰ نمبر : 4655/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں