بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لے پالک اولاد کا میراث میں حصہ


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیٹی بھائی )اکبرخان )کو دی،  میرے بھائی نے میری بیٹی کو متبنّی بنایا ،  اور شناختی کارڈ میں بھی اس کی ولدیت میرے اور میری بیوی کی بجائے  اپنا اور اپنی بیوی کا  نام لکھ دیا۔پھر میرا  یہ بھائی (اکبرخان) فوت ہو ا،  جس کی پرورش میں میری بیٹی تھی۔علاقائی جرگہ کے مشران نے میرے بھائی کا  ترکہ اس کےبہن ،بھائیوں اور اس کی بیوی کے درمیان تقسیم کر دیا،اور میری بیٹی کو کچھ نہ دیا اور اسے میرے پاس واپس بھیج دیا۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ؛

 ۱- کیا میری بیٹی کی ولدیت  میں میرے بھائی کا نام لکھنا جائز ہے؟

۲- کیا شریعت  کی رو سے میں اپنے بھائی کے مذکورہ  لوگوں سے اس بیٹی کی میراث کا مطالبہ کر سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ لےپالک بیٹا یا بیٹی کی حیثیت حقیقی اولاد کی نہیں ہوتی اس لیے ان   پر حقیقی اولاد کے احکام جاری نہیں ہوتے ۔ چنانچہ شرعاً یہ لازم ہے کہ ان کی نسبت اپنے حقیقی والد کی طرف کی جائے ، اسی طرح وہ  اپنے حقیقی والد کی میراث میں وراثت کے مستحق ہوں گے۔ گود لینے والے شخص کی میراث  میں لےپالک کا کوئی حق حصّہ نہیں ہوتا۔

اس مختصر تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہیں کہ:

 آپ کی بیٹی کا آپ كے بهائى کی طرف نسبت کرنا درست نہیں ، لہذا اس لے پالک بچی کو سائل یعنی  حقیقی والد کی طرف نسبت کر کے پکارا جائے۔

مسؤلہ صورت میں چونکہ لے پالک بیٹی  رشتہ کے اعتبار سےمرحوم كى  بھانجی ہے، اس لیے یہ ذوی الارحام میں سے ہے۔اور  چونکہ  سائل کے فوت شدہ بھائی ( اکبر خان )کے بہن بھائی  اور بیوی موجود ہیں، اس وجہ سے لےپالک بیٹی كا میراثميں كوئى حصّہ نہیں بنتا۔ تاہم  اگر ورثا اپنی رضامندی سے اس لے پالک کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، لیکن دینا لازم نہیں۔

 

قال اللہ تعالیٰ :﴿ادعوھم لآبائھم ھو اقسط عند اللہ۔﴾(سورة الأحزاب:05)

فیبدأ بذی الفرض ثمّ  بالعصبة النسبیّة ثمّ بالعصبة السببیّة ۔۔۔۔۔ ثمّ ذوالأرحام۔( الفتاوی الھندیّة، کتاب الفرائض،ج6،ص440، دارالفکر)


فتویٰ نمبر : 4144/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں