بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
کرامات اختیاری ہیں یا غیر اختیاری
سوال
کرامات اختیاری ہیں یا غیر اختیاری؟اگر کوئی شخص دونوں کا قائل ہو تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟
جواب
محققین حضرات کرامت اس امر کو کہتے ہیں جو کسی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی کامل متبع سے صادر ہو اور قانون ِعادت کے خلاف ہو ۔کرامت کے لیے نہ اس ولی کا اس سے باخبرہونا ضروری ہے اور نہ اس کے قصد وارادہ سے متعلق ہو نا ضروری ہے اس لیے کہ وہ فعل اللہ تعالی ہی اپنی قدرت سے پیدا فرماتے ہیں ،ولی کے ہاتھ پر صرف اس کا ظہور ہوتا ہے ۔
صورت ِمسؤلہ کے مطابق اگر کرامت کے اختیاری ہونے سے مراد یہ ہو کہ ولی کے کسب کو کرامت کے اظہار میں ذاتی اور مستقل تاثیر ِحقیقی حاصل ہے یعنی ولی اپنے مستقل قدرت واختیار سے جس وقت جیسی کرامت چاہے ظاہر کر سکتا ہے،توشرعاً ایسا اختیارو قدرت ولی کو حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ایسے کرامات کے اظہار پر ولی قادر ہے ۔چنانچہ کرامت کے اظہار وصدور میں ولی کو مختار ِکل اور قادر ِمطلق سمجھنا ایک مشرکانہ عقیدہ ہے جس سے اجتناب لازمی ہے ۔لیکن اگر کرامت کے اختیاری ہونے سے مراد یہ ہو کہ کسی موقع پر ولی کے قصد ومطالبہ پر اللہ تعالی اپنی مشیت وارادہ سے اس سے کرامت صادر فرمادیتے ہیں ،تو شرعاً کرامت کا ایسا صدور جائز بلکہ واقع ہے جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک فرمانبردار امتی نے اللہ تعالی سے دعا کرکے تختِ ِبلقیس کو پلک جھپکنے کے قلیل عرصہ میں حاضر کیا ،یا جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اللہ تعالی کا واسطہ دے کر دریاے نیل کو خط لکھا تو دریا حکم ِخداوندی سے بہنے لگا ۔لیکن کرامت کا اظہار ولی کے ہاتھ پر چونکہ اللہ تعالی کی قدرت سے ہو تا ہے اس لیے سلیمان علیہ السلام کے صاحب نے فرمایا"ھذا من فضل ِربی"(یعنی یہ میرے پرودگار کا فضل ہے )،اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ کے واقعہ میں بھی اللہ تعالی سے مانگنے کا تذکرہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ ولی ضرورت وحاجت کو مد نظر رکھ کر حدود ِشرع کے اندر اللہ تعالی سے کرامت کی دعا تو کر سکتا ہے لیکن اس کے وقوع میں بہرحال اللہ تعالی کے ارادہ،مشیت ،اور قدرت کا محتاج ہوتا ہے۔
قال الله تعالى: قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي۔(النمل:40)
وهو رجل من الإنس عنده علم من الكتاب فيه اسم الله الأكبر، الذي إذا دعي به أجاب:(أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ) فدعا بالاسم وهو عنده قائم، فاحتمل العرش احتمالا حتى وُضع بين يدي سليمان، والله صنع ذلك۔(تفسير الطبري:ج19،ص159)
من عبد الله أمير المؤمنین إلى نيل مصر أما بعد فإن كنت إنما تجري من قِبلك فلا تجر وإن كان الله الواحد القهار هو الذي يجريك فنسأل الله الواحد القهارأن يجريك۔قال فألقي البطاقة في النيل فلما ألقي البطاقة أصبحوا يوم السبت وقد أجراه الله تعالی ستة عشرة ذراعا فى ليلة واحدة وقطع الله تعالی تلك السنة عن أهل مصر إلی اليوم۔(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة،سياق ماروي من كرامات أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب رضي الله عنه،ج2ص402،401)
فإن صاحبها (الكرامة)لا يتحدى بها ولو أظهرها وقت الدعوى كانت شعبذة۔( اليواقيت والجواهر في بيان عقائد الأكابر،المبحث الخمسون،ج2ص366)
أن الله تعالى هو الفاعل عندهم لا هم هذ ا مشهدهم وليس وجه الخصوصية إلا وقوع ذالك الفعل الخارق على يدهم دون غيرهم فإذا أحيا كبشا مثلا أو دجاجة فإنما ذالك بقدرة الله لا بقدرته وإذا رجع الأمر إلى القدرة فلا يعجب ۔(اليواقيت والجواهر في بيان عقائد الأكابر،المبحث الخمسون،ج2ص370)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں