بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
گندم کی کٹائی کی وجہ سے روزہ افطارکرنا
سوال
درجہ ذیل صورت حال کےپیش نظرکیاایک غریب کاشتکارجوروزہ کی حالت میں گندم کی کٹائی سےقاصرہو،گندم کی کٹائی کےلیےروزہ چھوڑسکتاہےیانہیں؟ایک عالم دین نےجوازکافتوی دیاہے،جبکہ فقہاےکرام نےروزہ چھوڑنے کےلیے گندم کےضیاع کااندیشہ ہوناضروری قراردیاہے ،لیکن دور جدیدمیں خصوصا ہمارےعلاقے میں گندم ضائع ہونے کااحتمال باقی نہیں رہا،اس لیےکہ گندم کٹائی کےلیےآلات ایجادہوئےہیں اور ہمارے علاقےمیں عام طوپراستعمال بھی ہوتےہیں ،البتہ یہ بات ضرورہےکہ منافع پرتھوڑابہت اثرپڑتاہے،لیکن کاشتکاری سےلے کرفصل تیار ہونےتک تمام ترضروریات آلات ہی کےذریعےسےلوگ پوری کرتےہیں یعنی ٹریکٹر، ٹرالی اورتھریشروغیرہ اوران خرچوں کووہ برداشت کرتےہیں۔اب اگرکٹائی بھی آلات کےذریعےسےکرلےتوخرچہ تھوڑاسابڑھ جائےگا اور منافع میں کچھ کمی واقع ہوگی اوراگربذات خودکٹائی کرلےتوکٹائی کاخرچہ بچ جائےگااورمنافع کچھ زیادہ ہوں گے،نیزکٹائی کرنےوالوں کوعمومااجرت فصل تیارہونےکےبعددیتےہیں۔اب غریب کاشتکارفصل کاکچھ حصہ فروخت کرکےان کو اجرت دےگا،جس کی وجہ سے اس کے منافع میں کمی واقع ہوگی۔اب درجہ ذیل باتوں میں رہنمائی درکارہے:
1.مذکورہ صورت حال میں غریب آدمی گندم کی کٹائی کےدوران روزہ چھوڑسکتاہےیانہیں؟
2.مذکورہ مسئلہ کےجوازکافتوی کیاجمعہ کےدن منبرپر بیان کرناجائزہے؟
3.اگرجائزہوتوکوئی اشکال نہیں اوراگرناجائزہواورپھربھی یہ عالم دین اپنی بات پرڈٹارہےتو اس کےمتعلق کیاحکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ روزہ ایک اہم عبادت ہےجوہرعاقل،بالغ مسلمان پرفرض ہے ۔بغیرکسی عذرکےافطارکرناجائزنہیں، تاہم کسی عذر کےدرپیش ہونےپرافطارکرنےکی گنجائش پائی جاتی ہے،چنانچہ فقہاےکرام نےلکھاہےکہ اگرکوئی شخص کسی پرمشقت کسب معاش میں مشغول ہونےکی وجہ سےروزہ رکھنےسےقاصرہواوراس کسب کےعلاوہ اس کےپاس کوئی ایسا ذریعۂ معاش نہ ہوجس میں وہ روزہ رکھ سکتاہواورنہ اس کےپاس اتنانان نفقہ ہوکہ اس سےماہ رمضان میں گزربسرہوسکےتوایسی حالت میں اس کےلیےافطارکرنےکی گنجائش ہے،لیکن بعدمیں اس کےذمےقضالازم اورضروری ہے۔
صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکوئی کاشتکارگندم کی کٹائی کی وجہ سےروزہ رکھنےسےقاصرہواورماہ رمضان سےتاخیرکی صورت میں فصل کےضائع ہونےکا اندیشہ ہو،نیزوہ کسی شخص یاجدیدآلات کےذریعےاجرت پرکٹائی کرانے کی بھی استطاعت نہ رکھتاہو،توایسےشخص کےلیےروزہ افطارکرنےکی شرعاگنجائش ہے،تاہم بعدمیں اس کےذمےفوت شدہ روزوں کی قضا لازم ہوگی۔
جہاں تک مسئلہ مذکورہ کامنبرپربیان کرنےکی بات ہے تودرجہ بالا شرائط کےساتھ بیان کرنےمیں کوئی حرج نہیں۔
وقال الرملي: وفي جامع الفتاوى ولو ضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم نصف صاع اهـ أي إذا لم يدرك عدة من أيام أخر يمكنه الصوم فيها وإلا وجب عليه القضاء، وعلى هذا الحصاد إذا لم يقدر عليه مع الصوم ويهلك الزرع بالتأخير لا شك في جواز الفطر والقضاء وكذا الخباز..... والذي ينبغي في مسألة المحترف حيث كان الظاهر أن ما مر من تفقهات المشايخ لا من منقول المذهب أن يقال إذا كان عنده ما يكفيه وعياله لا يحل له الفطر؛ لأنه يحرم عليه السؤال من الناس فالفطر أولى وإلا فله العمل بقدر ما يكفيه، ولو أداه إلى الفطر يحل له إذا لم يمكنه العمل في غير ذلك مما لا يؤديه إلى الفطر......وكذا لو خاف هلاك زرعه أو سرقته ولم يجد من يعمل له بأجرة المثل، وهو يقدر عليها؛ لأن له قطع الصلاة لأقل من ذلك۔(ردالمحتارعلی ھامش الدرالمختار، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالایفسد، فروع المسائل،ج:3، ص:401، دارالکتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں