بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
امام اور مؤذن کے انتخاب کی ذمہ داری
سوال
ایک شخص نے ایک جگہ پلاٹنگ کی اور ان پلاٹوں میں مسجد کےلیے بھی جگہ وقف کی۔ چار، پانچ سال بعد لوگوں نے پلاٹوں کی تعمیر شروع کی اور مسجد بھی تعمیر کی ۔ اب اس مسجد کے لیے امام اور مؤذن منتخب کرنا محلے والوں کی ذمہ داری ہے یا واقف کی؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ متولی(چاہے واقف ہو یا کوئی اور شخص)کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ منصبِ امامت کےلیے ایسے شخص کا انتخاب کرےجو متقی اور پرہیز گار ہو، محلے والوں کے لیے قابلِ قبول ہو اور اس سے محلے والوں کو دینی فائدہ زیادہ حاصل ہوتا ہو ۔
صورتِ مسئولہ میں واقف اگر خود متولی ہو تو واقف امام اور مؤذن کے منتخب کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہے، البتہ اگر محلے والے کسی ایسے امام اور مؤذن کا انتخاب کرتے ہوں جو متولی کے مقرر کردہ امام کی نسبت سے امامت کا زیادہ حق دار ہو اور اس سے محلے والوں کو دینی نفع زیادہ پہنچتا ہو تو محلےوالوں کو ایسے امام کے منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے،تاہم امام اور مؤذن کے انتخاب کو متنازعہ مسئلہ نہیں بنانا چاہئے، کیوں کہ یہ مسجد کے تقدس اور احترام کے خلاف ہے اور یہ محلے والوں کے درمیان بغض و حسد، نفرت و انتشار اور قلتِ جماعت کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے واقف اور محلے والوں کو چاہئے کہ وہ مسجد کے معاملات میں اپنی "انا" کی خاطر تنازعات کی بجائے باہمی مشاورت اور رضامندی سے کسی امام اور مؤذن کا انتخاب کرلیا کریں۔
وكذلك لو نازعه أهل السكة في نصب الإمام والمؤذن كان ذلك إليه إلا إذا عين هو لذلك رجلاً وعين أهل السكة رجلاً آخر أصلح ممن عينه الباني فحينئذ لا يكون الباني أولى۔(فتاوى قاضي خان، كتاب الوقف، باب الرجل يجعل داره مسجدا أو خانا، ج:3، ص:182)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں