بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

خزانچی سے مسجد کا مال ضائع ہونا


سوال

 ایک شخص کے اکاونٹ میں مسجد کی رقم موجود تھی ، کہ بینک کے ہیڈ آفس سے کسی نے فون کرکے خود کوبینک کا نمائندہ ظاہر کرکے اس سے اکاونٹ کے متعلق معلومات لیتا رہا ، بعد میں معلوم ہوا کہ اس شخص نے دھوکہ سے معلومات حاصل کرکے اکاونٹ میں موجود رقم ٹرانسفر کی ہے ، اب خزانچی یہ رقم خود سے ادا کرے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ خزانچی کی حیثیت امین کی ہے ، اور امین سے اگر امانت کی رقم بغیر اس کی کوتاہی اور لاپرواہی کے چوری یا ضائع ہوجائے تو اس پر کوئی ضمان نہیں آئے گا ، تاہم اگر وہ امانت کی حفاظت میں کوتاہی اور غفلت کا ارتکاب کرے یا خود ہی تلف اور ضائع کردے ، تو اس صورت میں اس پرضمان واجب ہوگا ۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر خزانچی نے مسجد کی رقم بینک اکاونٹ میں محفوظ رکھی ہو اور اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی ہو ، لیکن کسی شخص نے خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرکے دھوکہ سے یہ رقم اس سے حاصل کرلی ہو ، تو اس صورت میں خزانچی پرضمان نہیں آئے گا۔

(وهي أمانة) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها (فلا تضمن بالهلاك) إلا إذا كانت الوديعة بأجر أشباه معزيا للزيلعي (مطلقا) سواء أمكن التحرز أم لا، هلك معها شيء أم لا لحديث الدارقطني: «ليس على المستودع غير المغل ضمان.(الدرالمختار ، كتاب الإيداع ، ج: 12 ص: 445)

الوديعة أمانة في يد المودع فإذا هلكت بلا تعد منه وبدون صنعه وتقصيره في الحفظ لايضمن ۔(شرح المجلة ، لسليم رستم باز ، الكتاب السادس في الأمانات ، الفصل الثاني في احكام الوديعة ، المادة: 777 ص: 431)


فتویٰ نمبر : 4659/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں