بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عبد مملوک کے اجر سے متعلق ایک حدیث پر اشکال کا جواب


سوال

بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ"لِلْعَبْدِ المَمْلُوكِ الصَّالِحِ أَجْرَانِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ"جبکہ صاحب ہدایہ نے رقیت یعنی غلامی کو اثر کفر قرار دیا ہے، اب بظاہر دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے ، کہ جب غلامی اثر کفر ہے ، تو آپ ﷺ نے کیسے اس کی خواہش ظاہر کی؟

جواب

واضح رہے کہ محدثین کرام ؒ کے اقوال و تصریحات کے مطابق یہ عبارت "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ الخ"نبی کریم ﷺ کے ارشاد کا حصہ نہیں ، بلکہ یہ عبارت ابوہریرہؓ کا قول ہے ، کہ اگر جہاد فی سبیل اللہ حج اور والدہ کی اطاعت نہ ہوتے تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ غلام ہوکر مروں ، کیونکہ آپ ﷺ نے یہ فضیلت بیان فرمائی ہے کہ اس کو دہرا اجر ملے گا۔  علامہ داودی ؒ، ابن بطالؒ، عبداللہ بن مبارک ،ؒ ابن وہب ؒ، ابو عوانہ ؒوغیرہ کئی محدثین کرام نے اسی قول کواختیار کیا ہے کہ یہ ابو ہریرہؓ کی طرف سے ادراج ہے آپ ﷺ کا ارشاد نہیں ، اور اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ یہاں پر " وَبِرُّ أُمِّي"(ماں کے ساتھ حسن سلوک )کا بھی تذکرہ ہے ، حالانکہ آپ ﷺ کی والدہ آپ ﷺ کے بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھی ، جبکہ ابوہریرہؓ کی والدہ حیات تھی  ۔

نیز کسی چیز کی خواہش اور تمنا کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس چیز کی تمنا بشمول جمیع صفات و لوازمات مطلوب ومقصود ہو ، بلکہ کسی خاص صفت کی وجہ سے بھی کسی چیز کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے ، چنانچہ یہاں بھی غلامی کی تمنا اس کے تمام صفات و لوازمات کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں کی گئی ہے ، بلکہ صرف دہرا اجر ملنے کی بنیاد پر یہ خواہش ظاہر کی گئی ہے ، کیونکہ اس حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ جو غلام صالح ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں ، ایک صالح ہونے کی وجہ سے اور ایک مالک کی خدمت کی وجہ سے ۔

قلت: لَو اطلع الْكرْمَانِي على مَا اطلع عَلَيْهِ من يَدعِي الإدراج لما تكلّف هَذَا التَّأْوِيل المتعسف، وَقد صرح بالإدراج الْإِسْمَاعِيلِيّ من طَرِيق آخر عَن عبد الله بن الْمُبَارك بِلَفْظ: وَالَّذِي نفس أبي هُرَيْرَة بِيَدِهِ ... إِلَى آخِره۔(عمدة القاري ، كتاب العتق وفضله ، ج:14 ص: 101)

هو كلام مزيد على الحديث من أبي هريرةؓ، وليس من كلامه ۔ صلى الله عليه وسلم ۔وحاصله :أن فضيلة أداء الحق سيّده وحق مولاه الحقيقي فضيلة لا تدرك حقيقته ، ولولا أنّ الفضائل الأخر الّتي تضاد فضائل العبد ، كبرّ الوالدين والجهاد وغيرهما ممّا لايمكن للعبد الاشتغال بها لكونه محبوسا في حقّ المولى لأحببت أن أحرز معها فضيلة العبدية لكن ما بينهما من التضاد والخلاف قصرني عنها ، وليسں المعنى مزية فضيلة العبد على جملة ما سواها من الفضائل إذا انضمت معها هذه الفضائل أيضا۔(لامع الدراري ، أبواب العتق ، ج: 8 ص: 402)


فتویٰ نمبر : 4647/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں