بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

آیت کریمہ﴿إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّكَ﴾کی تفسیر میں دفع اشکال


سوال

 تفسیر جلالین سورۃ طٰہ ٓیت نمبر 38کی تفسیر میں صاحب جلالین نے لکھا ہے: ﴿إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّكَ﴾مناما او الھاما۔اب سوال یہ ہے کہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ الہام غیر کے حق میں حجت نہیں ، اور ظاہر ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام بھی غیر تھے ، نیز اس سے علم یقینی حاصل نہیں ہوتا ، تو موسی علیہ السلام کی والدہ نے کیسے ان کو الہام کی بنا پر دریا میں ڈال دیا ؟

جواب

 الہام  کا معنی اللہ تعالی کا اپنے بندہ کے دل میں فیض کے طور پر یعنی بلا استحقاق و اکتساب محض اپنے فضل سے کوئی خیر کی بات ڈالنا ہے ، اس معنی کے اعتبار سے الہام علم قطعی کے حصول کا سبب نہیں ہے ، یعنی ایسا سبب نہیں ہے جس سے علم یقینی حاصل ہوجائے ، اور دوسروں پر حجت بننے کی صلاحیت رکھتا ہو ، نیز الہام کا تعلق صرف اس شخص کی ذات سے ہوتا ہے جس کو یہ الہام ہوتا ہے،  اصلاح خلق اور تبلیغ و دعوت سے اس کا تعلق نہیں ہوتا ، بخلاف وحی نبوت کے کہ اس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے ، اور اس کا منشا ہی مخلوق کی اصلاح اور تبلیغ ودعوت ہوتا ہے ۔

            جہاں تک سوال میں دیے گئے واقعہ کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ اس میں موسی علیہ السلام کی والدہ اللہ رب العزت کی طرف سے القا کیے گئے الہام پر عمل کرنے کے لیے مجبور تھی ، اس لیے کہ فرعونی سپاہی اسرائیلی لڑکوں کو قتل کرنے پر مامور تھے ، ان سے بچانے کے لیے موسی علیہ السلام کی والدہ کو بذریعہ الہام بتلایا گیا کہ ان کو صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دو، اب موسیؑ کی والدہ کے پاس دو ہی راستےتھے ، ایک یہ کہ ان کو گھر پر چھوڑ کر فرعونی کارندوں کا شکار بنادے ، اور دوسری صورت یہ تھی کہ الہام کے مطابق ان کو لکڑی کے صندوق میں بند کرکے دریا میں  ڈال دے ، اب ظاہر ہے کہ دوسری صورت میں پہلے کی نسبت موسی ؑ کے بچ جانے کے امکانات زیادہ تھے ، اس لیے انہوں نے یہ دوسری صورت اختیار کی، گویا اہون البلیتین کا راستہ اختیار کیا۔ 

نیز بعض مفسرین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وحی اس زمانے میں موجود کسی پیغمبر کے واسطے سے کی گئی تھی ، جس سے ان کو یقینی طور پر موسی علیہ السلام کے بچ جانے کی خبر دی گئی تھی ۔

فى الاسئلة المقحمة كيف يجوز لها ان تلقى ولدها فى البحر وتخاطر بروحه بمجرد الإلهام والجواب كانت مضطرة الى ركوب أحد الخطرين فاختارت له خير الشرين(تفسير روح البيان ج :5 ص:382 ، دار إحياء التراث العربي)

وهذه الوجوه الثلاثة يعترض عليها بأن الإلقاء في البحر قريب من الإهلاك وهو مساوٍ للخوف الحاصل من القتل المعتاد من فرعون فكيف يجوز الإقدام على أحدهما لأجل الصيانة عن الثاني . والجواب : لعلها عرفت بالاستقراء صدق رؤياها فكان إفضاء الإلقاء في البحر إلى السلامة أغلب على ظنها من وقوع الولد في يد فرعون . ورابعها : لعله أوحى إلى بعض الأنبياء في ذلك الزمان كشعيب عليه السلام أو غيره ثم إن ذلك النبي عرفها ، إما مشافهة أو مراسلة ، واعترض عليه بأن الأمر لو كان كذلك لما لحقها من أنواع الخوف ما لحقها . والجواب : أن ذلك الخوف كان من لوازم البشرية كما أن موسى عليه السلام كان يخاف فرعون مع أن الله تعالى كان يأمره بالذهاب إليه مراراً .(التفسير الكبير، دار إحياء التراث العربي)

وقيل : كان على لسان نبي في وقتها كما في قوله تعالى : { وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الحواريين } [ المائدة : 111 ] وتعقب بأنه خلاف الظاهر فإنه لم ينقل إنه كان نبي في مصر زمن فرعون قبل موسى عليه السلام .وأجيب بأن ذلك لا يتوقف على كون النبي في مصر ، وقد كان شعيب عليه السلام نبياً في زمن فرعون في مدين فيمكن أن يكون أخبرها بذلك على أن كثرة أنبياء بني إسرائيل عليهم السلام مما شاع وذاع ، والحق أن إنكار كون ذلك خلاف الظاهر مكابرة .(تفسير روح المعاني ، للعلامة محمود آلوسي ، ج: 16 ص: 187، دار إحياء التراث العربي)


فتویٰ نمبر : 4648/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں