بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حرام آمدنی والے کو کاروبار میں شریک کرنا


سوال

میرا ایک ساتھی ہے اس کا کل مال حرام ہے ۔کیا میں اس کو اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرسکتا ہوں، نیز اس شرکت کے نتیجے میں ہم کچھ منافع حاصل کرلیں ، تو کیا ہمارے لیے کل منافع حلال ہوگا ، یاصرف میرے حلال مال کے بقدر نفع حلال ہوگا؟

جواب

      واضح رہے کہ کاروبار چاہے مشترک ہو یا انفرادی اس کا سرمایہ حلال ہونا چاہیے، چنانچہ کل آمدنی حرام رکھنے والے شخص سے شراکت کا کاروبار جائز نہیں۔

      صورت مسئولہ کے مطابق کسی ایسے شخص کو کاروبار میں شریک کرنا جس کا کل سرمایہ حرام ہو ، شرعاً جائز نہیں ، البتہ اگر لاعلمی میں ایسی کوئی شراکت قائم کی گئی ہو اور اس کے نتیجے میں خریدوفروخت کرکے اس پر سے نفع کمایا گیا ہو ، تو اس صورت میں صحیح قول کے مطابق کمایا ہوا نفع حلال ہوگا ، تاہم  حرام مال کے مالک پر اس کے اصل سرمایہ کے بقدر مال واجب التصدق ہوگا۔

 

توضيح المسألة ما في التاتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام ۔(رد المحتار ، كتاب البيوع ، باب المتفرقات ، ج: 7 ص: 490)

والخبث لفساد الملك دون الخبث لعدم الملك فيوجب شبهة الخبث فيما يوجب فيه عدم الملك حقيقة الخبث، وهو ما يتعين كالجارية في مسألتنا ويتعدى إلى بدلها.وشبهة الشبهة فيما يوجب فيه عدم الملك الشبهة وهو ما لا يتعين، وشبهة الشبهة غير معتبرة ۔ (فتح القدير، كتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، فصل في أحكامه ، ج:29 ص: 116)

يجوز للمؤسسة إشراك غير المسلمين ، أوالبنوك التقليدية معها في عمليات مقبولة شرعا إلّا إذا تبيّن أنّ المال المقدم ۔ نقدا كان أو سلعة ۔ محرم ۔(المعايير الشرعية المعيار الشرعي رقم: 12 الشركة والمضاربة ، ص: 327)


فتویٰ نمبر : 2842/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں