بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

موےمبارک کا ثبوت اور اس کی زیارت


سوال

ایک شخص دعوی کررہا ہے کہ  اس کے پاس حضورﷺ کا  موئے مبارک ہے اور وہ بعض اوقات لوگوں کو اس کی زیارت کروارہا ہوتا ہے ۔اس کے کہنے کے مطابق  یہ بال اس نے ترکی  کے ایک  عام  شخص  سے تقریباً 20 لاکھ  روپے میں منگوائےہیں۔پہلے سے کسی کو اس کے بارے میں  علم نہیں تھا  اب پوچھنا یہ ہے کہ :(1)کیااس پر یقین کیا  جاسکتا ہے   کہ یہ آپ ﷺ کا موئے مبارک ہے  ۔(2)کیا موئے مبارک کو صحیح ثابت کرنے کے لیے  کسی سند کی ضرورت  ہوگی یا نہیں ؟کوئی بھی شخص اگر  دعوی کرے تو اس کو  سچا  مانا جا  سکتا ہے ؟(3)اس کا دیدار عوام سے کرانا  اور ان کے لیے  عرس  وغیرہ  کا انعقاد  کرنا  اور پروگرام بنانا  شرعاً کیسا ہے ۔(4)اس کی حفاظت اور  نمائش کے نام پر  عوام سے چندہ  اور پیسے جمع کرنا  کیسا ہے ؟

جواب

          حدیث شریف سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے موئے مبارک صحابہ کرام  رضی اللہ عنھم کے مابین  تقسیم  فرمائے تھے۔حضرات صحابہ کرام   رضی اللہ عنھم  نے انہیں  بحفاظت رکھا  اور ان سے برکت حاصل کرتے رہے ، پھر  انہیں سے وہ موئے مبارک بعد والوں  میں   منتقل بھی  ہوئے ،چنانچہ”صحیح بخاری“ میں حضرت محمد ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، کہ میں نے عبیدہ  سے کہا: ہمارے پاس نبی صلى الله عليہ وسلم کے چند موئے مبارک ہیں، جو ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، یا یوں کہاکہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ کے خاندان کی جانب سے حاصل ہوئے ہیں۔ عبیدہ نے کہا: میرے پاس آپ صلى الله عليہ وسلم کا ایک موئے مبارک ہونا مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند ہوتا“۔کوئی بعید نہیں  کہ  اسی  طرح زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ   نسل درنسل  بعد والوں  میں   منتقل ہوتے ہوئے  آج کے زمانہ تک   کسی کے پاس پہنچے ہو ں ،اور وہ اس کے پاس موجود ہو ں ۔تاہم  جو چیز رسول اللہ ﷺکی طرف منسوب ہو لیکن  اس کی کوئی قابل ِاعتماد سند نہ ہو تومحض عوام کے درمیان شہرت کی  وجہ  سے رسول اللہ ﷺکی طرف اس  کی نسبت  کا یقین کرنا  جائز نہ ہوگا ۔

          صورت مسؤلہ (2،1)میں  اگر مذکورہ شخص کوکسی معتمد اور  دیندار شخص سے موئے مبارک ملا ہو اور اس کی کوئی صحیح اور  قابل ِاعتماد سند ہو  ،تو شرعی حدود  کے اندر  اس کی  تعظیم کرنے میں  اجرو ثواب ہے ۔لیکن اگرکوئی  سند نہ ہو،تو خاموشی اختیار  کی جائے ،نہ اس کی تصدیق کی جائے   اور نہ تکذیب،نہ تعظیم کی جائے اور نہ  توہین ۔

(3،2)اگر معتمد طریقے سے موئے مبارک ملا ہو  اورظن ِغالب یہ ہو کہ جو شخص اس کا دعوی کر رہا ہے وہ جھوٹا نہ ہو گا   تو تبرکات  کی حد تک  اس کی زیارت  باعث ِخیر وبرکت  ہوگی ؛لیکن شرط یہ ہے کہ  اس میں افراط وتفریط نہ ہو ،کوئی اعتقادی یا  عملی خرابی  نہ ہو ،رسوم ِبدعت  اور بے پردگی نہ ہو ،زیارت میں کوئی  تاریخ  و دن  معین  اور ضروری  نہ سمجھا جائے ۔نیز اس صورت میں  اگر اس کی حفاظت  کی خاطر  عوام سے ضرورت  کی مقدار میں چندہ کیا جائے   اور وہ اپنی رضامندی  سے چندہ دے دیں   تو   اس کی بھی گنجائش ہو سکتی ہے۔لیکن اگر غالب گمان یہ ہو کہ مذکورہ شخص اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اور محض پیسے بٹورنے کی خاطر موئے مبارک کا دعوی کرتا ہے تو پھر اس کو چندہ نہ دیا جائے ۔

       عَنِ ابنِ سیرینَ قال: قلت لعَبِیدةَ: عندنا من شعرِ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَصبناہ مِن قبلِ انس او من قبل أہل انس. فقال: لأن تکون عندی شعرة منہ أحب اليّ مِنَ الدنیا وما فیہا. (صحیح بخاري، کتاب الوضوء، باب الماء الذي یغسل بہ شعرُ الانسان،ج1ص29)

عن ابن مالک؛ أن رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أَتٰی مِنٰی . فأتٰی الجمرةَ فرماہا ثم أتٰی منزلَہ بِمنٰی ونَحَرَ. ثم قال للحلّاق: خذ وأشارَ الی جانِبہ الأیمنِ. ثم الأیسرِ. ثم جَعَلَ یُعطِیْہِ الناسَ. (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان أن السنة یوم النحر أن یرمي الخ ج2ص947)

عن عثمان بن عبد الله بن موهب، قال: أرسلني أهلي إلى أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم بقدح من ماء - وقبض إسرائيل ثلاث أصابع من قصة - فيه شعر من شعر النبي صلى الله عليه وسلم، وكان إذا أصاب الإنسان عين أو شيء بعث إليها مخضبه، فاطلعت في الجلجل، فرأيت شعرات حمرا(صحيح البخاري، کتاب اللباس، باب ما یذکر في الشیب،ج2ص875)

عن محمدِ بنِ عبد اللّٰہ بن زیدٍ أن اباہُ حدثہ أنہ شہد النبيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عندَ المنحر ہو ورجل من قریشٍ وہو یقسم الأضاحي، فلم یصبہ شیءٌ ولا صاحِبَہ، فحَلَقَ رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رأسَہ في ثوبہ فأعطاہ فقسّم منہ علٰی رجالٍ، وقَلَمَ اظفارَہ فأعطاہ صاحِبَہ. قال: فانَّہ عندنا مخضوبٌ بالحناء، والکتمِ یعني شعرَہ. (مسند أحمد،رقم الحديث 16474،ج4ص42)

قد ذَکَرَ غیرُ واحدٍ أن خالدَ بنَ الولیدِ رضی اللّٰہ عنہ کانَ في قلنسوتہ شعراتٌ من شعرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلذلک کان لا یقدم علٰی وجہ الّا فتح لہ. (عمدة القاري،ج10ص43)


فتویٰ نمبر : 4653/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں