بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ہوٹل کے مزدوروں سے نقصان کا تاوان لینے کا حکم


سوال

ہمارا چائے کا ہوٹل ہے۔جس میں ہمارے ساتھ  روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدور ہیں،تو کبھی کبھاران مزدوروں میں کسی سے پیالی،پلیٹ ٹوٹ جاتا ہے یا کوئی اور نقصان ہوجاتا ہے تو ہوٹل کا مالک ان سے اس نقصان کا تاوان وصول کرتا ہے۔اب دریافت طلب یہ ہے کہ ہوٹل انتظامیہ یا مالک کو ان مزدوروں سے ہونے والے نقصان کا تاوان وصول کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

       واضح رہے کہ وہ شخص جو صرف مستاجر (جس نے اجرت پر رکھا ہو)ہی کے واسطے کام کرنے کے لیے اجارہ پر رکھا جائے جیسے تنخواہ دار ملازم یا مزدور وہ اجیر خاص کہلاتا ہے۔اجیر خاص کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر کوئی چیز اس کی غفلت کے بغیر اس سے ضائع ہو جائے تو اس پر تاوان لازم نہیں ہوتا۔

      لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ہوٹل میں کام کرنے والے مزدور اجیر خاص کے حکم میں ہیں ،اگر کوئی نقصان ان کی غفلت کے بغیر ان سے سرزد ہو جائے تو اس  نقصان کا تاوان ان سے لینا جائز نہیں۔

"والأجير الخاص: من يقبل العمل من واحد."(المحيط البرھانی،  كتاب الإجارات، الفصل الثامن والعشرون: في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك، ج: 9، ص: 313، المکتبۃ الغفاریۃ)

"من حكم الأجير الخاص، أن ما هلك على يده من غير صنعه فلا ضمان عليه بالإجماع، وكذلك ما هلك من عمله المأذون فيه فلا ضمان عليه بالإجماع."(أيضاﹰ ج وص:314)

 


فتویٰ نمبر : 2847/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں