بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

"تو میرے کام سے آزاد ہے" کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان کئی دنوں سے ناراضگی تھی،اسی دوران ایک دن شوہر ناشتہ کر رہا تھا کہ بیوی نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بولتے نہیں ہو ،کیوں؟ تو شوہر نے  کہا چپ ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ میرے منہ سے ایسے الفاظ نکل جائیں ،جس کی وجہ سے تم مجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاؤ،پھر بیوی  نے مزید کچھ باتیں کیں تو شوہر نے کہا کہ بس تو میرے اس کام سے آزاد ہے ۔شوہر سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کام سے میرا مطلب وظیفہ زوجیت ہے۔براہ کرم شریعت کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ یہ ایلاء کے مفہوم میں ہے یا طلاق؟اگر طلاق ہے تو پھر طلاق رجعی ہے یا طلاق بائن؟

جواب

واضح رہے کہ بیوی کو آزاد کرنے کے الفاظ جس علاقے کے عرف میں صرف طلاق دینے کے لیے ہی استعمال ہوتے ہوں تو وہاں یہ الفاظ صریحی طلاق کے حکم میں داخل ہوں گے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں مستفتی اپنے علاقے کے مستند علماے کرام اور مفتیان کرام سے معلوم کرے،اگر مذکورہ الفاظ "تو میرے کام سے آزاد ہے"وہاں  کے عرف میں طلاق کےلیے استعمال ہوتے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گی ،اور اگر  وہاں کےعرف میں طلاق کے لیے استعمال نہ ہوتے ہوں تو  الفاظ کنائی  ہونے کی وجہ سے اس سےایک طلاق بائن واقع ہو گی۔

 

 وفي الملتقط:ولو قال :رها كر دمت!مضافا الى المرآة فهو صريح يوجب الرجعة ولا يصدق    أنه لم ينو به الطلاق خصوصا  عند مذاكرة الطلاق.(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الطلاق،الفصل الخامس في الكنايات،4/465، الرشیدیۃ)

فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الطلاق،باب الکنایات،4/530، دارالکتب العلمیۃ) 


فتویٰ نمبر : 6246/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں