بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

خلع کی تعریف اوراس میں شوہر کی رضامندی کا اعتبار


سوال

خلع کی تعریف کیا ہے ؟اور کیا شوہر کی اجازت ومرضی کے بغیر خلع ہو سکتی ہے ؟

جواب

         خلع یہ ہے کہ بیوی خاوند سے حق  مہر  یا  اس سے کم و بیش مال کے بدلے نکاح ختم کرنے  کا مطالبہ کرے اور خاوند اپنی رضامندی سے  اس مال کے بدلےخلع دے دے۔خلع سے عورت ایک طلا ق ِبائن کے ساتھ شوہر سے جدا ہو جائے گی ۔چونکہ  خلع میں ایجاب وقبول اور میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے لہذا اگر خاوند  اپنی رضامندی سے  خلع کے لیے تیار نہ ہو   تو اس صورت میں خلع واقع نہیں ہو سکتا ۔

الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع۔۔۔ وشرطه شرط الطلاق وحكمه وقوع الطلاق البائن۔(الفتاوی الھندیۃ، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه،ج1ص488)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول۔(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،فصل  فیما یرجع الی المرأة فی الطلاق،ج4ص315)

وأما شرط وجوب العوض وهو المسمى في عقد الخلع فله شرطان: أحدهما قبول العوض لأن قبول العوض كما هو شرط وقوع الفرقة من جانبه فهو شرط لزوم العوض من جانبها لما ذكرنا سواء كان العوض المذكور في الخلع من مهرها الذي استحقته بعقد النكاح من المسمى ومهر المثل أو ما لا آخر وهو المسمى بالجعل۔(أيضا،ج4ص318)


فتویٰ نمبر : 6245/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں