بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

"اگر تم گھر سے نکلی تو تم مجھ پر تین پتھرو ں کے ساتھ طلاق ہو" کہنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی مار کر والدین کے گھر جانے سے منع کیا اور بیوی والدین کے گھر جانے پر ضد کررہی تھی کہ میں جا کر باپ بھائیوں کو بتا دوں گی تو شوہر نے بیوی سے کہا کہ "اگر تم گھر سے نکلی تو تم مجھ پر تین پتھرو ں کے ساتھ طلاق ہو"،اس کے بعد بیوی گھر سے نکلی لیکن والدین کے گھر نہیں بلکہ ڈاکٹر کے پاس گئی ۔اور شوہر کہتا ہے کہ میری مراد بھی والدین کے گھر جانے سے منع کرنا تھا تو اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ 

جواب

 واضح رہے کہ جب طلاق کسی شرط کے ساتھ معلق کی جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہوگی اور اگر شرط نہ پائی جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ صورت ِمسؤلہ کے مطابق اگر شوہر نے اپنی بیوی کو مارا اور والدین کے گھر جانے سے منع کیا،لیکن بیوی والدین کے گھر جانے پر ضد کررہی تھی تو اگر شوہر نے واقعی اس طرح کہا ہو کہ "اگرتم گھر سے نکلی تو تم مجھ پر تین پتھرو ں کے ساتھ طلاق ہو"اور اس کے بعد بیوی گھر سے نکل کر ڈاکٹر کے پاس گئی ہو تو چونکہ اس صورت میں شرط(گھر سے نکلنا)وجود میں آچکی ہے ،اس لیے بیوی تین طلاقوں کے ساتھ مغلظہ ہو کر شوہر پر حرام ہو چکی ہے ۔

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج1ص420) 


فتویٰ نمبر : 6243/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں