بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لیز پر لی گئی زمین وقف کرنا


سوال

حکومت پاکستان سندھ گورنمنٹ کا ایک ادارہ ہے"سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ"SITE یہ ادارہ تجارتی وصنعتی مقاصد کے لیے خواہشمند حضرات کو اپنی زمین میں سے پلاٹ لیز پر دیتا ہے اور پھر سالانہ کرایہ وصول کرتا ہے ، اگر کرایہ دار اپنی لیز فروخت کرنا چاہتا ہے یا کوئی کرایہ دار اپنے پلاٹ کا ٹریڈ یا نام تبدیل کروانا چاہتا ہے تو یہ کاروائی بھی متعلقہ ادارہ کے ذریعے ہی کروائی جاتی ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے SITE سے پلاٹ لیکر اسٹام پیپر پر ایک وقف نامہ کے ذریعے سے پلاٹ ایک دینی مدرسہ کے لیے وقف کردیا اور وہ اسٹام پیپر سائٹ کے آفس میں جمع کروایا ، لیکن سائٹ نے وقف نامہ والے اسٹام کو قبول کرنے کی بجائے اپنے مقررہ ضابطہ کے تحت چینج آف ٹریڈ اور نام بدل دیا ، اس شرط کے ساتھ کہ پلاٹ کی اونر شپ کرایہ دار کے پاس ہی رہی گی اور ضابطہ کے تحت پلاٹ کا کرایہ بھی ادا کرنا ہوگا ۔

اب اس پلاٹ کی حیثیت کیا ہوگی جس کا سالانہ کرایہ بھی ادا کیا جاتا ہو ، تو کیا یہ پراپرٹی وقف ہوگی یا نہیں ، اور لیز پر زمیں لینے والا کیا لیز کی زمین کو وقف کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

         شرعی نقطہ نظر سے عقدِ اجارہ میں مستاجر (کرایہ دار ) کرایہ پر لی گئی چیز کے صرف منافع کا مالک ہوتا ہے ، جبکہ اس  چیز کی ملکیت مؤجر( کرایہ پر دینے والے ) کے پاس ہی رہتی ہے ، اسی وجہ سے مستاجر ( کرایہ دار) کے لیے اس چیز میں ایسے تصرفات کی اجازت نہیں جن کے لیے کسی چیز کے عین کا  مالک ہونا ضروری ہوتا ہے ، چنانچہ کرایہ دار کے لیے اس چیز کو فروخت کرنا یا وقف کرنا جائز نہیں ۔

       لہذا صورت مسئولہ میں حکومت پاکستان کے ادارے SITEسے لیز پر لی ہوئی زمین کو  وقف کرنا درست نہیں، اس لیے کہ موقوفہ چیز کا وقف کرتے وقت واقف کی ملکیت میں ہونا ضروری ہے ، اور لیز پرلی گئی زمین لیز پر لینے والے کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی ۔

الإجارة عقد يرد على المنافع بعوض ؛ لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع۔ (البناية في شرح الهداية ، كتاب الإجارات ، ج:9 ص:268، مكتبة رشيدية )

ومنها الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا كذا في البحر الرائق رجل وقف أرضا لرجل آخر في بر سماه ثم ملك الأرض لم يجز وإن أجاز المالك جاز عندنا كذا في فتاوى قاضي خان ولو أوصى الرجل بأرض فوقفها الموصى له بها في الحال ثم مات الموصي لا تكون وقفا۔( الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الاول، ج:2 ص:346 دارالفكر )


فتویٰ نمبر : 4638/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں