بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

جائیدادکاقبضہ دیےبغیربیٹوں کےنام انتقال


سوال

کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ قلندرخان کےپانچ بیٹےتھے:مشال خان،طاؤس خان،شیوہ،اول خان اورمعین الدین۔ان میں سےمشال خان اپنےوالدسےپہلےفوت ہوا،اس وقت اس کی دوبیٹیاں تھیں:پشاورجانہ اورنوردانہ،پھرقلندرخان نےاپنی تمام جائیدادمشال خان سمیت تمام بیٹوں کےنام لکھوائی،لیکن اپنی زندگی میں قبضہ  کسی کو نہیں دیا،اس کے کاغذات وغیرہ موجودہیں،جس میں مشال خان کانام بھی ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ مشال خان کی اس جائیدادمیں جو والدصاحب نےکاغذات میں اس کےنام لکھوائی تھی کیامرحوم کی مذکورہ دوبیٹیوں کاحصہ ہے؟ اگرہےتوکتناہے؟

جواب

            کسی شخص کااپنی زندگی میں بحالت صحت وبقائےہوش وحواس اپنی مملوکہ جائیدادکسی کوہبہ کرناجائزہے،البتہ ہبہ کےتام (مکمل)ہونےکےلیےموہوب لہ کوموہوبہ چیزکاقبضہ دینا ضروری ہے،قبضہ دیےبغیرمحض کاغذات میں کسی کےنام انتقال کرنےسےہبہ تام نہیں ہوتا۔

           بشرط صدق وثبوت حسب بیان اگروالدنےاپنی جائیداداپنےبیٹوں کےنام کردی تھی،لیکن ان میں سےکسی کواپنی زندگی میں قبضہ نہیں دیاتھاتوصرف کاغذات میں جائیدادبیٹوں کےنام کرنےسےبیٹےجائیدادکےمالک نہیں ہوئےتھے،لہذاوالدکی وفات کےبعداس کی جائیدادترکہ(میراث) شمارہوگی،چنانچہ اس کی وفات کےبعدجوورثازندہ تھےان میں یہ میراث تقسیم ہوگی،نیزمیت کےبیٹوں کی موجودگی میں اس کےپوتوں اورپوتیوں کامیراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا،البتہ ورثاکوچاہیےکہ ان کی دلداری کےلیےاپنےاپنےحصہ سےبخوشی کچھ دیدیں۔

 قال اللہ تعالی:﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ (النساء/8)

تنعقدالهبة بالإيجاب والقبول،وتتم بالقبض الكامل؛لإنهامن التبرعات،والتبرع لايتم إلابالقبض.(شرح المجلة، لسلیم رستم باز،المادة:873، ص:462، المكتبةالحبيبية)

إن شرط الإرث وجودالوارث حياعندموت المورث.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10، ص:511، دارالکتب العلمیۃ)

العصبات النسبية ثلاثة عصبة بنفسه وعصبة بغيره وعصبة مع غيرہ.....ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل .....قال ابن عابدین :إذا تعدد أهل تلك الجهة اعتبر الترجيح بالقرابة، فيقدم الابن على ابنه والأب على أبيه والأخ على ابنه لقرب الدرجة.   (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، ج:1، ص؛518، دارالکتب العلمیۃ)


فتویٰ نمبر : 4636/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں