بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ متروکہ جائیدادفروخت کرنےکےبعددیگرورثاکےلیےضامن بننا


سوال

 ایک شخص نےبیس /20سال پہلےایک گھرفروخت کیا تھاجواس کو وراثت میں ملا تھا،دیگرورثامیں اس کی ماں اوربہنیں بھی شامل تھیں۔آج وہ ان کوان کا حصہ دیناچاہتاہے، اس زمانہ میں فروخت شدہ گھرکی قیمت بیس/20ہزارروپیہ تھی،آج پچیس/25لاکھ ہےتوآج وہ کس حساب سےان کوحصہ دینےکاپابندہوگا؟نیزاگروہ بجائےنقدرقم لینےکےاس فروخت شدہ گھرکامطالبہ کریں توکیا ان کواس مطالبہ کاحق حاصل ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ جب کوئی شخص فوت ہوجائےتواس کےترکہ منقولہ وغیرمنقولہ میں تمام ورثااپنےحصوں کےبقدرمالک ہوجاتےہیں  کسی وارث کےلیےیہ جائزنہیں کہ وہ دیگرورثاکی اجازت ورضامندی کےبغیرترکہ میں تصرف کرے۔

صورت مسؤلہ کےمطابق اگرایک وارث نےدوسرےورثاکی اجازت ورضامندی سےمتروکہ مشترکہ جائیدادمیں تصرف کر کےگھر فروخت کیاہوتویہ بیع صحیح ہوکر رقم میں سب ورثااپنےحصوں کےبقدرشریک ہوں گے۔اوراگراس نےوہ گھر دیگر ورثاکی اجازت ورضامندی کےبغیرفروخت کیاہوتواس میں چونکہ دیگرورثاکابھی حق تھا، اس لیےاس کےاپنےحصہ کے بقدر  تویہ بیع صحیح ہوگی ، لیکن دیگرورثاکےحصوں میں یہ بیع نافذ نہ ہوگی ، اس لیےکہ ان کےحصوں کاوہ مالک نہیں اور غیر مملوک چیزکی بیع نافذنہیں ہوتی، لہذادیگرورثا فروخت شدہ گھرمیں اپنےحصوں کےبقدرمطالبےکاحق رکھتےہیں،تاہم اگروہ باہم صلح کرکےاپنےحصہ کےبدلےمیں کچھ عوض لینےپرراضی ہوجائیں تواس میں شرعاکوئی حرج نہیں ۔

 

وقوله تعالى:﴿ والصلح خير﴾ قال بعض أهل العلم يعني خير من الإعراض والنشوز وقال آخرون من الفرقة وجائز أن يكون عموما في جواز الصلح في سائر الأشياء إلا ما خصه الدليل ويدل على جواز الصلح عن إنكار والصلح من المجهول.(أحکام القرآن للجصاص، باب مصالحةالمرأۃوزوجھا، ج:2، ص:283، سہیل اکیدمی لاہور باکستان)

(ومن باع ملك غيره) يعني لغيره.أما إذا باع لنفسه لم ينعقد، كذا في (البدائع)(النھرالفائق، کتاب البیوع، باب الحقوق، فصل في بیع الفضولی، ج:3، ص:490، رشیدية)

فشركة الأملاك: العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي"(الھداية، کتاب الشركة، ج:2، ص:605، رحمانية)

(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم»    (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، کتاب البیوع، فصل فیمایرجع إلی المعقودعلیه، ج:6، ص:568، دارالکتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 2840/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں