بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

رخصتی سے پہلے رشتۂ نکاح ختم کرنا


سوال

گر کسی لڑکی کا متعین مہر(مثلاً25تولہ طلائی زیوراور پانچ لاکھ نقد  پاکستانی روپیہ )کے ساتھ  نکاح ہوا  ہو لیکن رخصتی نہ ہوئی ہو ،اور  میاں بیوی کے مابین اختلافات کی وجہ سے  شوہر  اس نکاح کو  ختم  کرنا  چاہے  تو اس کا  شرعی طریقہ کار کیا ہوگا ؟نیز  جدائی کی صورت میں کتنامہر لازم ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح  کو  ختم کرنا ازدواجی تعلقات میں  درپیش ناچاقی کا ابتدائی حل نہیں  بلکہ اصلاح ِحال سے مایوسی کے بعدآخری مرحلہ ہے لہذا چاہیئے کہ  باہمی مفاہمت سے  ازدواجی تعلق کو  برقرار رکھنے کی  بارآورکوشش کی جائے ۔تاہم  کشیدگی کی وجہ سے اگرنکاح   برقرار رکھنا  مشکل ہو تو شریعت ِمطہرہ خاوند کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ  اپنی بیوی کو سنت طریقے کے مطابق  طلاق دے کر نکاح ختم کرے ۔

                صورت ِمسؤلہ میں  اگر نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت ِصحیحہ نہ ہوئی ہواور شوہر  اپنی منکوحہ کو سنت طریقے کے مطابق ایک طلاق دے دے تو دونوں  کا نکاح ختم ہوجائے گا ۔نیز  اگر مذکورہ مہر  متعین ہوا ہو  تو طلاق دینے کے بعد  شوہر پر مقرر کردہ  مہر   کے نصف (یعنی.50 12 تولہ طلائی  زیور اور ڈھائی لاکھ پاکستانی  روپیہ ) کی  ادائیگی لازم ہے ،البتہ اگر بیوی  اپنی رضامندی سے اس کو مہر  معاف کردے تو  اس سے بھی شوہر کا ذمہ  فارغ ہو جائے گا ۔

قال اللہ تعالی :وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (النساء:35)

وقال:وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۔(البقرۃ:237)

أما تفسيره شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص۔۔۔ فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الأول،ج1ص415)

یجب(نصفہ بطلاق قبل وطئ،أو خلوة)۔(الدر المختار،كتاب النكاح،باب المهر،ج4ص235)


فتویٰ نمبر : 6239/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں