بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ دینے میں مستحق ِزکوۃ کی ضرورت کی رعایت


سوال

ہم اپنے خاندان کے بااثر اور صاحب ِاستطاعت لوگوں سے زکوۃ کی رقم جمع کرتے ہیں اور اپنے خاندان ہی میں سے مستحقین ِ زکوۃ کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ اب دریافت ِطلب امر یہ ہے کہ ہم ان مستحقین کے درمیان زکوۃ کی رقم کیسے تقسیم کریں ؟اور ہر مستحق کو کتنی زکوۃ دیں ؟

جواب

جو شخص  نصاب(ساڑھے سات تولے سونے یا ساڑھے باون  تولے چاندی یا ان میں سے کسی ایک کے بقدر مالِ تجارت یا نقد مالیت )کا مالک  نہ ہو اس کو زکوۃ اور دیگر صدقات ِواجبہ  دیئے جا سکتے ہیں۔

صورت ِمسؤلہ کے مطابق اپنے خاندان  کے صاحب ِنصاب  لوگو ں سے  زکوۃ کی رقم  اکٹھی کر کےمستحقِ زکوۃ    رشتہ دارو ں میں تقسیم  کرنا زیادہ  افضل اور باعث ثواب ہے ۔تاہم فقہاے کرام ؒ کی تصریحات کے مطابق کسی ایک شخص کو اتنی زکوۃ دینا   جس سے وہ صاحب ِ نصاب  ہو جائے مکروہ ہے  لہذا مستحق کو نصاب کی مقدار میں زکوۃ نہ دی جائے ،البتہ اگر کوئی مستحق ِزکوۃ  قرض دار ہو  یا  اس کے اہل و عیال زیادہ ہوں یا اس کو کوئی اور ضرورت   در پیش ہو جس کو پورا کرنے کے لیے زیادہ رقم کی ضرورت ہو  تو  اس کو مد نظر رکھ کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ   رقم دی جا سکتی ہے ۔

وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى لأنه صلة وصدقة ۔(رد المحتار،كتاب الزكوة،باب المصرف ج3ص293)

( وكره إعطاء فقير نصابا ) أو أكثر ( إلا إذا كان ) المدفوع إليه ( مديونا و ) كان ( صاحب عيال ) بحيث ( لو فرقه عليهم لا يخص كلا ) أو لا يفضل بعد دينه ( نصاب ) فلا يكره۔(الدر المختار،كتاب الزكوة،ج3ص303)

قوله ( وندب إغناؤه عن السؤال ) وينبغي أن ينظر إلى ما يقتضيه الحال في كل فقير من عيال أو حاجة كدين وثوب قال في النهر واقتضى كلامه أن الكثير لواحد أولى من توزيعه على جماعة۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،باب المصرف،ص593)


فتویٰ نمبر : 8792/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں