بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

کفالت سے دست برداری


سوال

ایک شخص نے دوسرے کو قرض رقم دی تھی ۔ مقررہ مدت گزرنے پر جب قرض خواہ نے اپنے قرض کا مطالبہ کیا تو قرض دار نے کہا کہ میری مالی استطاعت نہیں کہ قرض چکا دوں۔درمیان میں کچھ افراد نے ذمہ داری قبول کرکے کہاکہ اگر فلاں تاریخ تک اس نے قرض ادا نہیں کی تو ہم آپ کو قرض کی رقم دیں گے ۔یہ مدت بھی پوری ہوئی لیکن قرض دار نے قرض ادا نہیں کیا ،اسی طرح ذمہ دار افراد نے بھی رقم ادا کرنے سے انکار کیا حالانکہ ان کے ذمہ دار بننے پر گواہ بھی موجود تھے ،یوں قرض دار بھی غائب ہوا اور ذمہ دار افراد نے بھی انکار کیا-ایسی صور ت ِحال میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی قرض خواہ کے قرض ادا کرنے کی ذمہ داری  قبول کرنا شرعاً کفالت کہلاتا ہے۔ کفیل بننے کے بعد حق کی ادائیگی  یا صاحب ِحق کی طرف سے معافی  سے پہلے   کفیل کو انکار یا  رجوع کا حق  حاصل نہیں ۔

          صورت ِ مسولہ میں اگربشرط ِصدق وثبوت   مذکورہ    ذمہ دار افراد نے حسب ِبیان قرض  ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہو اور مقررہ مدت میں  قرض دار نے  واجب الادا  قرض  ادا نہ کی ہو تو شرعاًقرض خواہ  ان ذمہ دار افراد   سے قرض   کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔کفالت  سے انکار پر یہ  ذمہ دار افراد  کفالت سے بری نہیں ہو سکتے ۔

ليس للكفيل أن يخرج نفسه من الكفالة بعد انعقادها وترتب الدين في ذمة المدين ۔۔۔وللمكفول له إن شاء مطالبة الكفيل وإن شاء مطالبة الأصيل .(شرح المجلة لسليم رستم باز الكتاب الثالث في الكفالة ،الباب الثاني،المادة64،ص350)


فتویٰ نمبر : 2834/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں