بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

لڑکی کا نکاح کے لیے راضی ہونے کے بعد انکار کرنا


سوال

اگر ایک لڑکی کی منگنی اس کی رضامندی سے ہو جائے البتہ ایجاب وقبول یعنی نکاح نہ ہوا ہو اور پھر کچھ عرصہ بعد لڑکے میں کسی مرض یا عیب کی وجہ سے لڑکی نکاح سے انکار کرے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جب تک  منگنی   میں باقاعدہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہو تو یہ محض وعدہ نکاح  شمار ہو تا ہے لہذا کسی ضرورت اور واقعی عذر کے بغیر اس کو توڑنا وعدہ خلافی کے زمرے میں شامل ہو کر شرعاً ممنوع ہوگا۔لیکن اگر صورت  ِمسؤلہ کے مطابق   لڑکے  میں کوئی   بڑی بیماری یا عیب ہو جس کی وجہ سے لڑکی نکاح سے انکار کرے  تو اس کی گنجائش موجود ہے  اور اس کی رضامندی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہو سکتا ۔

 النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي۔۔۔ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين(الهداية،كتاب النكاح ،ج2ص325)

لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد وإن كان للعقد فنكاح۔(رد المحتار،كتاب النكاح ،مطلب كثيرا ما يتساهل في إطلاق المستحب على السنة،ج4ص72)


فتویٰ نمبر : 6237/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں