بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بھنگ میں عشر


سوال

کیا بھنگ میں عشر واجب ہے،اور اگر ہے تو کیا ثواب کی نیت کی جا سکتی ہے؟

جواب

          یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے،کہ آج کل معاشرے میں بھنگ کا استعمال بالعموم مضر صحت منشیات  کے طور پر ہوتاہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ بطور منشیات متعارف ہے، اور لاکھوں لوگ اس کے عادی بن کر اپنی صحت  اور زندگی  کوداؤ پر لگا چکے ہیں۔چنانچہ ان حالات کےپیش نظر ہر عام وخاص  کے لیےاس کی کا شت کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔البتہ اگر حکومت دواؤں میں استعمال کی  خاطریا کسی اور جائز مقصد کے لیے اپنی نگرانی میں محدود پیمانے پر اس کو کاشت کرے تو اس کی گنجا ئش ہوگی۔

         صورت مسؤلہ میں اگر  بھنگ کی کاشت  منشیات ہی کے لئےہو تو یہ کاشت پوری ضائع کردی جائے،اور اگر اس کو فروخت کرکے  مال حاصل کیا گیاہو تو اس کو بلا نیت ثواب فقرا پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر کہیں پر حکومت کی نگرانی میں محدود پیما نے پر اس کو کاشت کیا گیا ہو تو پھر اس صورت میں عشر واجب ہوگا۔

عن أنس قال كنت ساقي القوم في منزل أبي طلحة وكان خمرهم يومئذ الفضيخ فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم مناديا ينادي ألا إن الخمر قد حرمت فقال لي أبوطلحة اخرج فأهرقها قال فخرجت فهرقتها فجرت في سكك المدينة۔(صحيح البخاري،كتاب الغصب باب في المظالم ،باب صب الخمرفي الطريق،رقم الحديث :2464ج2ص656)

عن نافع،عن ابن عمر،ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال "كل مسكرخمر۔وكل مسكر حرام"(صحيح مسلم،كتاب الأشربة،باب بيانه أنه كل مسكر خمر،وأنه كل خمرحرام،رقم الحديث:2003،ج3ص1587)

(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية ولو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكاة،باب زكاة الغنم،ج3ص218)

ويجب العشر عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة،الباب السادس:فى زكاةالزرع والثمار،ج1ص247)


فتویٰ نمبر : 8824/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں