بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قراءت میں غلطی


سوال

 ایک شخص نے نماز تراویح میں "فمن شاء اتخذ الى ربه ماٰبا" کی جگہ یہ پڑھا "فمن شاء الرحمن الى ربه ماٰبا" تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قراءت میں غلطی کی وجہ سے نماز مطلقا فاسد نہیں ہوتی ، چاہے وہ غلطی کسی لفظ کی کمی کی صورت میں ہو یا کسی لفظ کی زیادتی کی صورت میں ہو یا ایک لفظ کی بجائے دوسرا لفظ پڑھنے کی صورت میں ہو، بلکہ اس کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر غلطی ایسی ہو جس سے معنی میں ایسا تغیر پیدا ہو جائے جس کا اعتقاد کفر ہو تو اس سے نماز فاسد ہوگی ، لیکن اگر غلطی کی وجہ سے معنی تبدیل نہ ہو یا معنی تو تبدیل ہو لیکن تغیر فاحش نہ ہو تو اس سے نماز فاسد نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص "فمن شاء اتخذ الى ربه ماٰبا" کی جگہ " فمن شاء الرحمن الى ربه ماٰبا"پڑھے تو چونکہ اس سے معنی میں تغیر فاحش لازم نہیں آتا لہذا نماز فاسد نہ ہوگی.

"والقاعدة عند المتقدمين إن ما غير تغييرا يكون اعتقاده كفرا يفسد في جميع ذلك سواء في القرأن أو لم يكن، إلا ما كان من تبديل الجمل مفصولا بوقف تام" (حلبی کبیری ، فصل فی بیان أحکام زلۃ  القارئ، ص:410(

"الكلمة الزائدة إن غيرت المعنى ووجدت في القرآن نحو أن يقرأ (والذين آمنوا وكفروا بالله ورسله أولئك هم الصديقون)، ... تفسد صلاته بلا خلاف وإن لم تغير المعنى فإن كانت في القرآن نحو أن يقرأ ( إن الله كان بعباده خبيرا بصيرا) لا تفسد بالإجماع ..." (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ ، الفصل الخامس: فی زلۃ القارئ، ج: 1،ص: 138)


فتویٰ نمبر : 8780/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں