بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بڑے گاؤں اور شہر کی تعریف پر ایک شبہ کاازالہ


سوال

حضرت مولاناسرفراز خان صاحب ؒ ترمذی کی شرح خزائن السنن میں فرماتے ہیں کہ تعین مصرمیں علماءاحناف کاقدیماوحدیثااختلاف ہےاورفرماتے ہیں کہ خودہمارےاکابرعلماءدیوبندکابھی اس میں اختلاف ہے۔علامہ صاحب نے تھانوی صاحبؒ اورمفتی کفایت اللہ صاحبؒ کااختلاف ذکرکیاہے توکیامفتی صاحب اس اختلاف کی وجہ سے مصراور قریہ کبیرہ اختلافی بنتاہے ؟اورکیااسے جوازجمعہ یاعدم جوازجمعہ مختلف فیہ بنتاہے؟اور کیامختلف فیہ مسئلہ میں کسی ایک جانب پرعمل کی گنجائش ہے؟

جواب

         واضح رہے کہ نماز جمعہ  کی ادائیگی کےلیے دیگر شرائط کے علاوہ  مصر یاقریہ کبیرہ کا ہو نا بھی ضروری ہے۔اور مصر کی تعریف نصوص میں نہ ہو نے کی وجہ سے  فقہائے کرام ؒ نے ہر دور میں اپنے عرف کو دیکھ کر کی ہے ،جس کی وجہ سے اس  سلسلے میں فقہائے کرامؒ سے مختلف قسم  کے اقوال منقول  ہیں  ،چونکہ مصر کی تعریف میں فقہائے کرامؒ سے متعدد اقوال منقول ہیں،اس لیے کسی قول کو  حرف آخر اور قطعیت کا درجہ  نہیں دیا جاسکتا،تاہم متقدمین اور متأخرین فقہائے کرامؒ کے اقوال کو مدنظر رکھتے ہو ئے وجوبِ جمعہ  کے سلسلے میں مصر یا قریہ کبیرہ کی تحدید کے لیےموجودہ دورمیں اتنی بات کافی ہے کہ جہاں پر ضروریاتِ زندگی  میسر  ہوں اور موجودہ دور کے  اعتبار سے اس  کی آبادی دو،ڈھائی ہزار تک پہنچتی ہو،تو اس میں جمعہ وعیدین واجب ہوں گے،البتہ جہاں کہیں شرائطِ جمعہ موجود نہ ہوں تو وہاں پرظہرکی نماز اداکرنی چاہئے۔اور جس مسئلہ میں اکابرین اور بزرگان دین کےتحریرات مختلف ہوں توعصرِحاضرکےمعتمداہل علم اور بزرگان دین سےاس مسئلہ کے بارے میں دریافت کرنا چاہئے ،تاکہ ان اقوال میں سےبہترقول کی طرف رہنمائی ہو جائے۔

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى(الھدایۃ، کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ،ج:1،ص:177)

فاعلم أن تعريف المصرأيضا ليس بحد حقيقي و إنما هو تشخيصه فقط،و تعريف الشخصي يختلف بإختلاف تشخصاته في كل زمان،فهذا الوجه لإختلاف الفقهاء في تعريف المصر(إعلاء السنن،ابواب الجمعة،باب عدم الجمعة في القري،ج:8،ص:11)


فتویٰ نمبر : 8826/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں