بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
طلاق کا فائل میل کرنے سے طلاق کا حکم
سوال
4 اکتوبر سن 2020 ء کو گھریلو نا چاقی (جس کی تفصیلات لف کاپی میں مذکور ہیں ) کی وجہ سے سائل (عادل کریم) نے اپنی بیوی (مومنہ وزیر) کو تحریر ی طلاق پر مشتمل ایک فائل میل کی تھی اور بذریعہ ڈاک بھی ارسال کر دی تھی ۔ نیز سائل کا کہنا ہے کہ میں اس کے ساتھ مزید ازدواجی تعلق قائم نہیں رکھنا چاہتا۔ براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے طلاق کے وقوع یا عدم ِوقوع کا دارو مدارخاوند کے بیان پر ہوتا ہے جہاں خا وند بحالت ِصحت و بقاے ہوش وحواس تحریری یا زبانی طور پر طلاق دینے کا اقرار کرے تو خاوند کے بیان کو سامنے رکھتے ہوئے منکوحہ مطلقہ شمار ہوگی ۔
صورت ِمسؤلہ میں خاوند کے بیان کے مقابلے میں عورت کا بیان کیا ہے؟ اس کا ہمیں کوئی پتہ نہیں،تاہم اگر خاوند نےباہمی رنجش اور نا چاقی کی وجہ سے اپنی بیوی کو باقاعدہ قانونی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تحریری طور پر منسلکہ Divorceنوٹس کے ذریعہ طلاق دی ہو اور پھر دوران ِعدت قولا ً یا فعلا ً رجوع نہیں کی ہو تو بغیر رجوع کے عدت گزرنے سے عورت خاوند سے خود بخود جدا ہو جاتی ہےجہاں عدت گزرنے سے عورت آزاد متصور ہوئی ،جو بعد آزاں اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے جیسا کہ خاوند بغیر کسی عدت گزارنے کے دوسری جگہ نکاح کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔
تاہم ایک طلاق دے کر بلارجوع عدت گزرنے سے طلاق ِبائن ہو جاتی ہے ۔جہاں میاں بیوی اگر دوبارہ باہمی طور پر اکھٹا رہنے کا عزم کریں تو باقاعدہ دونوں کی رضامندی کے بغیر نکاح کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ۔
قال اللہ تعالی :الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔(البقرۃ:229)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں