بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

ویب سائٹ پروموشن


سوال

السلام علیکم مفتی صاحب ایک بندہ جب کسی ویب سائٹ کی پروموشن کرتا ہے یعنی اسکے لئے ایڈز لگاتا ہے مختلف مقامات پر تاکہ اسکی ایڈورٹائزمنٹ ہوجائے تو اس کے بدلے میں پیسے ملتے ہیں کیا یہ پیسے لینا جائز ہے؟ اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ سائٹ میں کیا کیا ہو رہا ہے یا ایسی ویب سائٹ ہو جس میں جائز امور جیسے گیم وغیرہ ہوتے ہوں بیانات وغیرہ ہوں اور ساتھ میں کچھ ناجائز قسم کا لین دین بھی ہو تو پھر اس ویب سائٹ کی پروموشن کرنا کیسا ہے؟ 

جواب

عصر حاضر میں جدید  تقاضوں کے پیش نظر ذرائع ابلاغ اور ذرائع تشہیر کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں،لہذا ان کے استعمال سے  صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، کسی ویب سائٹ پر مختلف کمپنیوں کے اشتہارات چلا کر ان سے پیسے کمانے میں ایک طرف سے عوض اور دوسری جانب سے منافع کا معاملہ ہے، اس لیے یہ عقد اجارہ کے زمرے میں آتا ہے۔

صورت مسئولہ میں آن لائن اشتہارات کی تشہیر نجی سطح پر کوئی ویب سائٹ، ایپلی کیشن، بلاگ، یوٹیوب چینل، یا فیس بک پیج کا مالک کرے، یا کوئی بڑی کمپنی مثلا گوگل یا فیس بک وغیرہ اپنی تشہیری ذرائع پر کرے، تو ایسی صورت میں  اشتہارات کی تشہیر کے عوض اجرت وصول کرنے کی مختلف صورتیں بن سکتی ہیں:

1-اشتہارات  اگر شرعی منکرات ، یا جھوٹ پر  مشتمل ہوں،تو ایسے   ویب سائٹ کو پروموٹ کر کے پیسے  کمانا شرعاً جائز نہیں، اگر چہ وہ  ویب سائٹ بذات خود صحیح اور جائز کام کر رہا  ہو۔

2- ایسے اشتہارات جو شرعی منکرات سے پاک ہوں، اور کسی حرام چیز کی تشہیر پر بھی مشتمل نہ ہوں، اور ویب سائٹ میں بھی غیر شرعی امور نہ ہوں، اور ویب سائٹ اور تشہیر کرنے والی کمپنی کے درمیان کیے گیے معاہدے میں بھی کوئی شرعی قباحت نہ ہو، تو ایسے اشتہارات کے ذریعے پروموشن کر کے پیسے کمانا شرعاً جائز ہے۔

3- جو اشتہارات  شرعی منکرات سے پاک ہوں، لیکن ویب سائٹ کے بارے میں کسی کو علم نہ ہو، کہ وہ کیا کیا کام کر رہا ہے؟ یا وہ سائٹ جائز اور ناجائز دونوں قسم کا لین دین کر رہا ہو، تو ایسے نا معلوم  ویب سائٹ کا سہارا  بننا بھی کسی معصیت کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، اس لیے اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔

 

قال اللہ تعالی: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (  المائدہ2 :)

"الإجارة: عقد یرد على المنافع بعوض" (الہدایۃ۔ کتاب الاجارات۔ج:3۔ ص:295۔ مکتبہ رحمانیہ۔)

”الأمور بمقاصدها يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر"(شرح المجلہ لخالد الاتاشی۔المقالۃ الثانیۃ فی القواعد الفقہیۃ۔ المادۃ:2 ۔ج:.1ص:13۔ مکتبہ رشیدیہ.)

"درء المفاسد أولى من جلب المنافع،فاذا تعارضت مفسدۃ و مصلحۃ، فدفع المفسدۃ مقدم فی الغالب" (ایضا ً ۔ المادۃ:30۔ ج:1۔ ص:70۔ مکتبہ رشیدیہ.)

"(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي) ؛ لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه"(البحرالرائق شرح کنزاکدقائق۔ کتاب الاجارۃ۔  باب الاجارۃ الفاسدۃ۔ ج:8۔ ص: 34۔ دارالکتب العلمیۃ.)


فتویٰ نمبر : 2839/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں