بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باتھ روم میں میاں بیوی کا صحبت اور باتیں کرنا


سوال

کیا باتھ روم میں میاں بیوی صحبت اور باتیں کر سکتے ہیں یا نہیں؟اگر یہ عمل مکروہ ہے تو مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی؟

جواب

            واضح رہے کہ باتھ روم نہانے اورقضائے حاجت کی جگہ ہوتی ہے،جہاں آدمی اکثرکشف عورت کی حالت میں ہوتا ہے،لہذا ایسی حالت میں غیر ضروری باتیں کرنا مکروہ تحریمی ہے،جس سے احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔جہاں تک میاں بیوی کا باتھ روم میں صحبت اور باتیں کرنے كا مسئلہ ہے تواگر وہاں نجاست اور گندگی نہ ہو تو صحبت کرنے کی گنجائش ہے،تاہم مناسب نہیں اوراسی دوران باتیں کرسکتے ہیں ،لیکن خلاف ادب ہے۔

 

عن عبدالله بن أبي أوفىؓ قال ۔۔۔ فقال رسول اللهﷺ: "والذي نفس محمد بيده، لا تؤدي المرأة حق ربها حتى تؤدي حق زوجها، ولو سألها نفسها وهي على قتب لم تمنعه"۔(سنن ابن ماجة،كتاب النكاح،باب حق الزوج على المرأة،رقم:1853،ج:1،ص:595)

عن أبي سعيدؓ قال:سمعت رسول اللهﷺ يقول :"لا يخرج الرجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان ، فإن الله تعالى يمقت على ذلك"۔(السنن الكبرى­­ للبيهقي،كتاب الطهارة،باب كراهية الكلام عند الخلاء،رقم:485،ج:1،ص:175)

( و ) فيها يكره ( الكلام في المسجد وخلف الجنازة وفي الخلاء وفي حالة الجماع )قال ابن عابدين تحت قوله: ( وفي الخلاء ) لأنه يورث المقت من الله تعالى،وقوله: ( وفي حالة الجماع ) لأن حاله مبني على الستر وكان يأمر فيه بالأدب۔(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الحظروالإباحة،ج:9،ص:600)

ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقا،أما كلام الناس فالكراهة حال الكشف۔(إمداد الفتاح،كتاب الطهارة،فصل في آداب الغسل ومكروهاته،ص:112،مكتبه حقانيه)


فتویٰ نمبر : 6277/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں