بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

سسر کا بہو کو مس کرنا


سوال

اگرسسراپنی بہو کوہاتھ یا پاؤں سےمس کرے(لیکن مجامعت نہ کی ہو)تو اس سے بہو کا نکاح تو ختم نہیں ہوتا؟اگر ہوتا ہے تو کیا کریں؟ایسی حالات میں شوہرکے لئےبیوی اور باپ کے ساتھ تعلق رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب مشتہاۃ مرد اورعورت ایک دوسرے کو بغیر حائل کے یا ایسے باریک حائل کے ساتھ کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہو،شہوت کے ساتھ مس کریں  کہ یا  پہلے سے موجود  شہوت میں اضافہ ہوجائے اور ساتھ  ہی اسی ممسوسہ عورت کی طرف  میلان(رغبت جماع)بھی پیداہو جائےتو اس سے  ان کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے اور ان پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہوجاتے ہیں،لیکن اگر بغیرشہوت کے مس کرے یا شہوت کے ساتھ ہو ،لیکن درمیان میں اتنا بڑا حائل موجود ہو کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس نہ ہوتی ہو یا پہلے سے موجود شہوت میں اضافہ نہ ہوا ہو یا اسی عورت کی طرف  میلان نہ پایا جائےتو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی،نیز حرمت مصاہرت کے ثبوت میں عامد،ناسی،مکرہ اورخطا کارسب کا حکم برابر ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سسر نے  اپنی بہو کو ہاتھ یا پاؤں سے مس کیا ہو(بغیر حائل کے یا ایسے باریک حائل  کے ساتھ کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوئی ہو)اور مس کرتے وقت کسی ایک کو بھی شہوت آئی ہو یا پہلے سے موجود شہوت میں اضافہ ہوا ہو،اور  ساتھ ہی اسی ممسوسہ عورت کی طرف  میلان(رغبت جماع)  بھی ہوتو ان کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہو چکی ہے، اگر چہ مجامعت نہ کی ہو،لہذا ان پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو چکے ہیں،چنانچہ ایسی صورت میں بہو(عورت) اپنے شوہر(سسر کے بیٹے،جو کہ اس کے فروع میں آتا ہے) پر حرام ہو چکی ہے،ایسی حالات میں شوہر کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر جدا کرے،لیکن اگر مس کرتے وقت کسی کو بھی شہوت نہ آئی ہو یا شہوت آئی ہو ،لیکن درمیان میں ایسا حائل موجود تھا  کہ جس سے بدن کہ حرارت  محسوس نہ ہوئی ہو یا اسی ممسوسہ عورت کی طرف میلان نہ ہو ئی ہو تو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ہے۔البتہ پھر بھی اس طرح کےقبیح افعال سے اجتناب لازمی ہے۔

(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) .....(و) أصل (ممسوسته بشهوة).....(وفروعهن) مطلقا ۔(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ج:4، ص:107-108، دارالکتب العلمیۃ)۔

ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب النکاح، الباب الثالث :القسم الثانی المحرمات بالصھریۃ، ج:1 ، ص:340، دارالفکر )

قلت: ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها۔۔۔قوله: (ولا فرق فيما ذكر) أي من التحريم وقوله: بين اللمس والنظر وصوابه في اللمس والنظر، وعبارة الفتح ولا فرق في ثبوت الحرمة بالمس بين كونه عامدا أو ناسيا أو مكرها أو مخطئا إلخ ....قوله: (وتكفي الشهوة من إحداهما) هذا إنما يظهر في المس .....قوله: (وبحرمة المصاهرة إلخ) قال في الذخيرة: ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة ....قوله: (إلا بعد المتاركة)... بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول۔ (ردالمحتارعلی ھامش الدرالمختار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ج:4، ص؛108-114، دارالکتب العلمیۃ)

وقال عامة العلماء الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها۔(فتاوی قاضی خان،کتا ب النکاح،باب فی المحرمات،ج:1،ص:317،دارالکتب العلمیۃ)


فتویٰ نمبر : 6254/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں