بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو(تہ پہ ما طلاقہ یی)کہنا


سوال

میرے بھائی نے اپنی بیوی سے  پشتوزبان میں کہا(تہ پہ ما طلاقہ یی)یعنی تو مجھ پرمطلقہ ہے،اور یہ تکرار کے ساتھ کہا،کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی؟

جواب

واضح رہےکہ اپنی مدخول بہا بیوی کو صریح الفاظ کی ساتھ طلاق دینے سے طلاق صریح واقع ہوتی ہے۔طلاق صریح کو تکرار کے ساتھ کہنے سے متعدد طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔یعنی دو دفعہ کہنے سےدو طلاق رجعی واقع ہوتی ہیں اور تین یا زیادہ دفعہ کہنے سے تین طلاقیں واقع ہوکر بیوی مطلقہ مغلظہ ہو جاتی ہے۔ صورت مسٔولہ میں جس شخص نے صریح الفاظ(تہ پہ ما طلاقہ یی)یعنی تو مجھ پر مطلقہ ہے،کو مکرراستعمال کرکے طلاق دی ہے،تواگر یہ الفاظ دو دفعہ کہہ چکا ہو تو دو طلاق رجعی واقع ہو چکی ہیں،جس کے بعد شوہر عدت کے اندر بغیر تجدید نکاح کے رجوع کر سکتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد اگر دونوں باہم رضامندی سے از سر نورشتہ ازدواج میں منسلک ہوناچاہتے ہیں توتجدید نکاح کر سکتے ہیں اور اگر تین دفعہ یا اس سے زیادہ یہ الفاظ کہہ چکا ہو تو تین طلاقیں واقع ہو کر بیوی طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے، جس کے بعد تجدید نکاح نہیں کرسکتے۔

 

قال الله تعالي:(الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ...فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ) ۔البقرۃ (229۔230)

وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا (الفتاوی الهندية۔كتاب الطلاق۔الباب الثانى في إيقاع الطلاق۔الفصل الاول في الطلاق الصريح۔423/1دارالكتب العلمية)

وكررلفظ الطلاق وقع الكل (الدرالمختار على صدرردالمختار۔كتاب الطلاق۔باب طلاق غير مدخول بها۔521/4۔دارالكتب العلمية)

أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق۔ (بدائع الصنائع۔كتاب الطلاق۔فصل في شرط النيةفي الکناية- 214/4- دارالکتب العلمية) 


فتویٰ نمبر : 6250/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں