بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کےنابالغ بچوں کےفطرانےکاحکم


سوال

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اگراپنےپاکستان میں مقیم بچوں کافطرانہ اداکرےتوسعودی کےحساب سےاداکرناہوگایاپاکستانی روپیہ کےحساب سے؟اگرسعودی عرب کےحساب سےاداکرنےکافتوی ہے،توآج تک جنہوں نےپاکستانی روپیہ کےحساب سےاداکیاہےتوان کاکیاحکم ہے؟

جواب

          شرعی نقطہ نظرسےہرصاحبِ نصاب شخص پراپناصدقہ فطراوراپنےنابالغ بچوں کاصدقہ فطراداکرنالازم ہےاورصدقہ فطرکی مقدارپونےدوکلوگندم یاساڑھےتین کلو کھجور یا جو یا کشمش ہے،چاہےکہیں بھی اداکیاجائےتواداہو جائےگا۔اوراگران اشیاء کی قیمت ادا کرنی ہوتوجہاں ادائیگی کرنے والاموجودہو وہاں کی قیمت معتبر ہوگی۔

          صورتِ مسئولہ کےمطابق اگرسعودی عرب میں مقیم پاکستانی نےعیدالفطروہیں گزارنی ہوتوایساشخص اپناصدقہ فطرسعودی عرب کی قیمت کےحساب سےاداکرےگا۔تاہم نابالغ بچوں کاصدقہ فطراداکرنےمیں جس جگہ کی قیمت کااعتبارہوگااس میں فقہاءکرام کااختلاف ہے،امام محمد فرماتےہیں کہ جہاں ادائیگی کرنےوالاموجودہووہاں کی قیمت معتبرہوگی اوریہی صورت افضل واحوط ہے،جب کہ امام ابوحنیفہؒ وابویوسفؒ فرماتےہیں کہ نابالغ بچوں کاصدقہ فطراداکرنےمیں ان بچوں کی جگہ کی قیمت معتبر ہوگی۔سعودی عرب میں مقیم کسی پاکستانی نےاگرآج تک اپنےنابالغ بچوں کاصدقہ فطرپاکستانی روپیہ کےحساب سے اداکیاہوتوچونکہ شیخین کےقول کےمطابق ان کاصدقہ فطراداہوچکاہےاس لیےدوبارہ ادائیگی لازم نہیں۔لیکن اگراس شخص نےاپناصدقہ فطرپاکستانی روپیہ کےحساب سےاداکیاہوتواس پردوبارہ صدقہ فطراداکرناضروری ہے۔

 

وَالْمُعْتَبَرُ فِي الزَّكَاةِ فُقَرَاءُ مَكَان الْمَالِ، وَفِي الْوَصِيَّةِ مَكَانُ الْمُوصِي، وَفِي الْفِطْرَةِ مَكَانُ الْمُؤَدِّي عِنْدَ مُحَمَّدٍ، وَهُوَ الْأَصَحُّ،وَأَنَّ رُءُوسَهُمْ تَبَعٌ لِرَأْسِهِ. (قَوْلُهُ: مَكَانَ الْمُؤَدِّي) أَيْ لَا مَكَانَ الرَّأْسِ الَّذِي يُؤَدِّي عَنْهُ (قَوْلُهُ: وَهُوَ الْأَصَحُّ) بَلْ صَرَّحَ فِي النِّهَايَةِ وَالْعِنَايَةِ بِأَنَّهُ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ كَمَا فِي الشُّرُنْبُلَالِيَّةِ وَهُوَ الْمَذْهَبُ كَمَا فِي الْبَحْرِ فَكَانَ أَوْلَى مِمَّا فِي الْفَتْحِ مِنْ تَصْحِيحِ قَوْلِهِمَا بِاعْتِبَارِ مَكَانِ الْمُؤَدَّى عَنْهُ.قَالَ الرَّحْمَتِيُّ: وَقَالَ فِي الْمِنَحِ فِي آخِرِ بَابِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ: الْأَفْضَلُ أَنْ يُؤَدِّيَ عَنْ عَبِيدِهِ وَأَوْلَادِهِ وَحَشَمِهِ حَيْثُ هُمْ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ حَيْثُ هُوَ اهـ تَأَمَّلْ. قُلْت: لَكِنْ فِي التَّتَارْخَانِيَّة يُؤَدَّى عَنْهُمْ حَيْثُ هُوَ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ وَمِثْلُهُ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَهُوَ الصَّحِيحُ.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،باب المصرف،ج:3،ص:307)

ثم المعتبر في الزكاة مكان المال حتى لو كان هو في بلد وماله في بلد آخر يفرق في موضع المال وفي صدقة الفطر يعتبر مكانه لا مكان أولاده الصغار وعبيده في الصحيح كذا في التبيين وعليه الفتوى كذا في المضمرات(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصارف،ج:1،ص:252)


فتویٰ نمبر : 8807/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں