بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

فلاحی تنظیموں کو زکوۃ یا صدقات واجبہ کی رقم دینا


سوال

ہمارےعلاقےمیں کرونا کے وبائی مرض کےآنے کے بعدبہت زیادہ فلاحی تنظیمیں بنی ہیں،یہ تنظیمیں اچھےاچھے رفاہی کام کر  رہے ہیں، اس کے ساتھ یہ تنظیمیں زکوۃ اور فطرانہ کی رقمیں بھی لوگوں سے وصول کر تے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسی تنظیموں کو زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 

جواب

           زکوۃ کو مصرف تک پہنچانے کےلیےشخص کی طرح کسی ادارہ کےسربراہ  یا نمائندہ کو بھی وکیل بنانے میں  کوئی حرج نہیں۔لیکن  زکوۃ کی ادائیگی اس وقت ہوگی جب وہ وکیل مصرف میں خرچ كرے گا۔

          صورت مسٔولہ میں جو رفاہی ادارے  معتمد لوگوں کی نگرانی میں چلتے ہوں،  اور اہل علم سے پوچھ کر مصارف تک  زکوةپہنچانے کا اہتمام کرتے ہوں،تو ان کو زکوۃ  یا دیگر صدقات واجبہ دینا درست ہے۔لیکن جن رفاہی اداروں  کے ذمہ  داران کااعتماد پر  پورا اترنا مشکل ہو اور یا زکوۃ  کو مصارف تک  پہنچانے  کےشرعی تقاضوں پر  عمل غیر یقینی  ہو تو ایسے اداروں کو زکوۃ یا صدقات واجبہ  دینے سے احتراز کرنا  چاہئے  تاکہ کہیں یہ اہم فریضہ بے احتیاطی کی وجہ سے ذمے پر باقی نہ رہ جائے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِين﴾(التوبة:59)

ويشترط أن يكون الصرف تمليكا لاإباحة۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكوة،باب الصرف،ج3ص291)

وإذا دفعها إليه وهو شاك ولم يتحر أو تحرى ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد۔(الفتاوی الهندية، كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف،ج1ص190)

إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع ولم ينو عند الدفع جاز۔(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسيرالزكوة،ج1ص232)


فتویٰ نمبر : 8829/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں