بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مغرب کی نماز سے پہلے نوافل


سوال

کیامغرب کی نماز سے پہلے نوافل ادا کر سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ آذانِ مغرب کے بعد فرض نماز کی ادائیگی میں تأخیر نہ کرنے کا حکم ہے، آذان مغرب کے بعد فرض نماز سے پہلے نفل پڑھنا چونکہ فرض نماز میں تأخیر کا سبب ہے ، اس وجہ سے فقہا کرام نے مغرب کی نماز سے پہلے نوافل کو مکروہ کہا ہے۔ اگر چہ بذاتِ خود اس وقت میں کوئی کراہت نہیں، لیکن چونکہ اس کی وجہ سے فرض میں تأخیر ہوتی ہے،اس وجہ سے اس سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا مغرب کی آذان کے بعد فوراً فرض نماز پڑھی جائے۔ نیز مغرب سے پہلے نوافل پڑھنا سنّت میں شمار نہیں ہوتا، جب کہ مغرب کے بعد نوافل پڑھنا سب کے نزدیک سنّت ہے، اس لیے سنّت عمل کی پیروی کرتے ہوئے مغرب کے بعد نوافل پڑھنی چاہیے۔

 

(و)یکرہ التنفل (قبل صلوۃ المغرب) لقولہ ﷺ" بین کل أذانین صلاۃ اِلّا المغرب"۔ ( حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلوۃ، فصل فی الأوقات المکروھۃ،ص۱۵۱)

( يكره تنزيهاً) أفاد أن المراد بالتعجيل أن لا يفصل بين الأذان والإقامة بغير جلسة ، أوسكتة على الخلاف۔ وأن ما في القنية من اِستثناء التأخير القليل محمول على ما دون الركعتين، وأن الزائد على القليل إلى اِشتباك النجوم مكروه تنزيها، وما بعده تحريما إلا بعذر كما مر قال في شرح المنية والذي اقتضته الأخبار کراهة التأخير إلى ظهور النجم وما قبله مسكوت عنه۔ (الدر المختارمع ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، مطلب فی طلوع الشّمس من مغربھا، ج۱، ص۳۶۹، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

 ( و ) يستحبّ ( تعجيل المغرب ) لأن تأخيرها مكروه لما فيه من التشبّه باليهود۔ وقال عليه الصّلاة والسلام لا تزال أمّتي بخير ما عجلوا المغرب وأخروا العشاء ۔ (فتح القدیر،کتاب الصلوۃ، باب المواقیت، فصل فی اِستحباب التّعجیل، ج۱، ص۲۰۰، مکتبہ حقانیہ)

فرجّحت الحنفیّة أحادیث التّعجیل لقیام الإجماع علٰی کونہ سنّة ، وکرھوا التّنفّل قبلھا ؛ لأنّ فعل المباح والمستحبّ إذا أفضٰی إلٰی الإخلال بالسّنّة یکون مکروھاً ، ولا یخفی أنّ العامّة لو اعتادوا صلاة رکعتین قبل المغرب لیخلون بالسّنّة حتمًا ، و یوٴخّرون المغرب عن وقتہا قطعًا ۔( اعلاء السنن، باب الأوقات المکروھۃ، مبحث الرکعتین قبل المغرب،ج۱، ص ۶۱/۶۲، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)


فتویٰ نمبر : 8811/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں