بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قومہ سےسجدہ جانےکاطریقہ


سوال

بعض لوگ قومہ سےسجدہ جاتےہوئےزمین پرگھٹنےٹیکنےسےپہلےاوپرکادھڑجھکادیتےہیں،جس سےصورۃایک اوررکوع کی مشابہت ہوجاتی ہےجویقینادرست نہیں،چنانچہ علامہ شامی نے"ردالمحتار"میں" فتاوی التاتارخانیہ "کے حوالےسے اس کوتاہی کی صراحت ذکرکی ہے۔مسئلہ مذکورہ کی تحقیق درکارہے؟

جواب

فقہائےکرام کی تصریحات کےمطابق قومہ سےسجدہ جانےکامسنون طریقہ یہ ہےکہ گھٹنےزمین پرٹیکنےسےقبل کمراورسینہ نہ جھکائے،بلکہ کمرسیدھی رہے،اس لیےکہ اس کےجھکنےکی وجہ سےاوپرکادھڑجھک جائےگا،جس سےدوسرےرکوع کی زیادتی کااندیشہ ہےجویقیناقابل ترک ہے،لہذامذکورہ بالاطریقےسےاحترازکرناچاہیے۔

ويخر للسجود قائما مستويا لا منحنيا لئلا يزيد ركوعا آخر يدل عليه ما في التتارخانية: لو صلى فلما تكلم تذكر أنه ترك ركوعا، فإن كان صلى صلاة العلماء الأتقياء أعاد، وإن صلى صلاة العوام فلا لأن العالم التقي ينحط للسجود قائما مستويا والعامي ينحط منحنيا وذلك ركوع لأن قليل الانحناء مسحوب من الركوع اهـ تأمل(ردالمحتارعلی ھامش الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃالصلاۃ، مطلب فی إطالۃ الرکوع للجائی، ج:2، ص:202، دارالکتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 8782/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں