بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

جعلی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر پنشن لینا


سوال

حکومت پاکستان کا یہ قانون ہے کہ جو شخص دس سال نوکری کرے اور وہ میڈیکل ان فٹ ہو جائے تو حکومت اسے 25 سالہ ملازمت سے کم یکمشت اور ماہانہ پنشن دیتی ہے بعض لوگ حقیقتاً  اَن فٹ نہیں ہوتے لیکن ڈاکٹر کے ذریعے اپنے آپ کو اَن فٹ بناکر پنشن وصول کرتے ہیں ، ا ب سوال یہ ہے کہ مذکورہ شخص کے لئے یکمشت وماہانہ پنشن کی رقم لینا حلال ہے یا حرام؟

جواب

          شریعت  مطہرہ  کی  رو  سے کسی کامال بغیر کسی استحقاق محض دھوکہ وفریب سے حاصل کرنا اوراسے استعمال کرنا  حرام ہے۔

           صورت مسؤلہ میں اگر کوئی شخص حقیقت میں بیمار نہ ہو اور میڈیکل رپورٹ کے ذریعے اپنے آپ کو خلاف حقیقت بیمار ظاہر کروا رہا ہو، اور یوں دھوکہ دہی اور فریب سے  اپنے آپ کو پنشن کا مستحق بنا رہا ہو، تو ایسی صورت میں اس شخص کے لئے  يہ پنشن لینا جائز نہ ہوگا اور آخرت میں رسوائی  کا باعث ہو گا۔  

 

قالﷲ تعالی: ﴿"یا ایّھا الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل اِلّا أن تکون تجارۃً عن تراض منکم﴾( النّساء:29)

وعن أبی سعید الخدریّ ؓ عن النبیﷺ قال: ألا لکل غادر لواء یوم القیامۃ بقدرغدرته۔(مسند أحمد، رقم الحدیث :11268)

وقال ﷺ:"لا یحل مال امرئ مسلم اِلّا بطیب نفس منہ" (السنن الکبری للبیھقی،کتاب الغصب،باب من غصب لوحاً فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا،ج8،ص506)۔

لا یجوزلٲحد من المسلمین ٲخذ مال ٲحد بغیر سبب شرعی۔ (البحرالرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الحدود، فصل  فی التعزیرج5،ص67، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 4676/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں