بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں منہ میں نسوار رکھنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ رمضان   میں روزہ کی حالت میں نسوار منہ  میں رکھنا کیسا ہے؟

جواب

روزہ کی حالت میں اگر کوئی چیز منہ میں ڈالی   جائے اور اس کا ذائقہ حلق میں محسوس  ہو یا   اس کے ذرات حلق تک پہنچ جائیں توروزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ روزہ کی حالت میں نسوار منہ میں رکھنے سے چونکہ نسوار کے ذرات لعاب کے ساتھ مل کر پیٹ کے اندر  جاتے ہیں۔اس لئے روزہ کی حالت میں اس سے اجتناب ضروری ہے ورنہ اس  سے روزہ  فاسد ہوگا اور اس پرقضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

 

وَقَوْلُهُ مَا يُتَغَذَّى بِهِ اخْتَلَفُوا فِي مَعْنَى التَّغَذِّي قَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ أَنْ يَمِيلَ الطَّبْعُ إلَى أَكْلِهِ وَتَنْقَضِي بِهِ شَهْوَةُ الْبَطْنِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ مَا يَعُودُ نَفْعُهُ إلَى صَلَاحِ الْبَدَنِ وَفَائِدَتُهُ فِيمَا إذَا مَضَغَ لُقْمَةً ثُمَّ أَخْرَجَهَا ثُمَّ ابْتَلَعَهَا فَعَلَى الْقَوْلِ الثَّانِي تَجِبُ الْكَفَّارَةُ وَعَلَى الْأَوَّلِ لَا تَجِبُ وَعَلَى هَذَا الْوَرَقُ الْحَبَشِيُّ وَالْحَشِيشَةُ وَالْقِطَاطُ إذَا أَكَلَهُ فَعَلَى الْقَوْلِ الثَّانِي لَا تَجِبُ الْكَفَّارَةُ لِأَنَّهُ لَا نَفْعَ فِيهِ لِلْبَدَنِ وَرُبَّمَا يَضُرُّهُ وَيَنْقُصُ عَقْلُهُ وَعَلَى الْقَوْلِ الْأَوَّلِ تَجِبُ لِأَنَّ الطَّبْعَ يَمِيلُ إلَيْهِ وَتَنْقَضِي بِهِ شَهْوَةُ الْبَطْنِ.(الجوہرۃ النیرۃ، مطلب في مفسدات الصوم، کتاب الصوم، ج:1 ص:339، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8801/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں