بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

والد پر خرچ شدہ اخراجات کا مطالبہ کرنے کا حکم


سوال

السلام علیکم و رحمۃ اللہ. ایک شخص کی دو بیبیاں تھیں ایک اس کی زندگی میں فوت ہوئی جس کے بطن سے پانچ اولاد ہیں. دوسری زندہ ہے جس سے تیرہ اولاد ہیں. پہلی بیوی کے بیٹوں کی شادی کرانے کے بعد انہیں گھر کے اندر رہتے ہوئے تمام امور سے جدا کر دیا اور تمام تر املاک اپنے قبضے میں رکھ کر دوسری بیوی بچوں کے ساتھ تا حیات رہا. املاک میں 13 کوارٹر اور 8دکانیں اور کئی بھینسیں شامل تھیں. جب یہ شخص آخری عمر میں بیمار ہوا تو دوسری بیوی کے بچوں نے اس کا علاج کیا. کیا علاج کیا اور کتنا علاج کیا پہلی بیوی کے بچوں کو علم نہیں. اب اس شخص کا انتقال ہوا ہے اور میراث بھی تقسیم ہو چکی ہے. تقسیم کے دوران جس نے علاج کیا تھا اس نےیہ کہا کہ باپ پر میں نے 3500000 روپے خرچہ کیا ہے. جومجھے دیے جائے. اور اس مرحوم کے دو بیٹے(دوسری بیوی سے) جن کی شادی ابھی نہیں ہوئی انکی شادی کا خرچہ سب سے مانگ رہے ہیں. اب سوال یہ ہے کہ کیا باپ کا جو علاج یہ اپنی طرف سے (بقول ان کے) کر چکا ہے اس کا مطالبہ اور ان دو بھائیوں کی شادی کا مطالبہ جو اپنا میراث لے چکے ہیں اور بالغ ہیں کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے اگر کوئی شخص ازخود والدین کے علاج  معالجہ  پر رقم خرچ کرے تو وہ نہ والدین سے اس رقم کا مطالبہ کرسکتا اور نہ ان کے فوت ہونے کے بعد یہ رقم ان کے ترکہ سے وصول کر سکتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر بیٹے نے  ازخود باپ کے علاج معالجہ پر خرچ شدہ اخراجات کو برداشت کیا ہو تو ایسی صورت میں شرعا وہ اخراجات باپ کے ترکہ سےوصولی کا حقدار نہیں ہے،بلکہ یہ والد کے ساتھ احسان و تبرع ہے، جس کا  اسےثواب ملے گا۔

نیز جن بیٹو ں کی شادی مرحوم نے اپنی حیات میں کی تھی ۔وہ مرحوم کا اپنے مال میں تصرف تھا،جبکہ فوت ہونے کے بعد اس کا سارا مال ترکہ بن گیا ہے۔جو کہ تجہیز و تکفین کے ضروری اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہوتو ایک تہائی حصہ سے وصیت کی ادائیگی  کے بعد ورثا میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے،غیر شادی  اولاد ترکہ میں اپنےحصہ میراث کے علاوہ رقم کا مطالبہ نہیں  کر سکتے ۔

 

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته"(کنز الدقائق، کتاب الفرائض، ص:737، البشری)

"لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ بِأَدَائِهِ وَالْمُتَبَرِّعُ لَا يَرْجِعُ."(العناية شرح  الهداية، کتاب الکفالة، ج:4، ص:920، دارالکتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4137/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں