بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تیر رفتار سے تراویح سننے کا حکم


سوال

  نماز تراویح میں قاری کا تیز سپیڈ میں قرآن کریم سنانا کیسا ہے؟

جواب

قرآن مجید اللہ تبارک و تعالی کی مقدس کتاب ہے،اس کی تعظیم و اداب کی رعایت ضروری ہے ،اسی وجہ سے  قرآن کریم کو تجوید و ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی تعلیم و  ترغیب دی گئی ہے۔

نماز تراویح میں قرآن مجید اس انداز سے پڑھنا چاہیے کہ قرآن مجید کے الفاظ مکمل اور صاف ادا ہوں ،اس طرح تیز  پڑھنا جائز نہیں کہ حروف  صحیح طریقے  سے ادا نہ  ہوں، اگر کوئی قاری تراویح ایسے  تیز رفتار سے پڑھائےکہ قرآن کریم کے الفاظ خلط ملط ہو جا  ئیں، اورحروف صحیح ادا نہ ہوں ،تو یہ جائز نہیں  ، لہذا ایسے امام کی اقتدا نہ کی جائے۔

 

روى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه يقرأ في كل ركعة عشر آيات ونحوها وهو الصحيح كذا في التبيين ويكره الإسراع في القراءة وفي أداء الأركان كذا في السراجية وكلما رتل فهو حسن كذا في فتاوى قاضي خان(الفتاوى الھندیۃ،کتاب الصلاۃ،فصل فی التراویح،ج:1،ص:177)

ويجتنب المنكرات هذرمة القراءة وترك تعوذ وتسمية وطمأنينة وتسبيح واستراحة(الدر المختار علی صدرردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،ج:2،ص:499)

(قوله هذرمة) بفتح الهاء وسكون الذال المعجمة وفتح الراء: سرعة الكلام والقراءة قاموس، وهو منصوب على البدلية من المنكرات، ويجوز القطع ح.(ردالمختارمع الدرالمحتار،کتاب الصلاۃ،مبحث:صلاۃ التراویح،ج:2،ص:499)


فتویٰ نمبر : 8804/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں