بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

آدھی ڈیوٹی پر پوری تنخواہ لینا


سوال

میں سرکاری ملازم ہوں،اب پچھلے سال میں نے آدھی  ڈیوٹی کی ہے ادارے کےسربراہ کی اجازت سے جبکہ تنخواہ  پوری لی ہے  ، اب اس آدھی ڈیوٹی کے عوض میرے ذمے  حکومت کی دیانۃ  رقم بنتی ہے  یا نہیں، اگر بنتی ہے ،تو کیا  اس واجب الادا   رقم کو میں  انکم  ٹیکس ،سیل ٹیکس کی مد  میں سمجھ سکتا ہوں ، یا باقاعدہ ادا کرونگا؟

جواب

واضح رہے کہ تنخواہ دار سرکاری ملازم اجیر خاص کے حکم  میں ہوتا ہے  اور اجیر خاص  متعین مدت میں حاضر ہوکر اپنے آپ کومستاجرکے حوالہ کرنےپر اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

اگر کوئی سرکار ی ملازم  آدھی ڈیوٹی کر لےاور تنخواہ پوری وصول کر ے  تو  یہ اس آدھی تنخواہ  کا حقدار نہیں،اس  لیےیہ سرکاری خزانہ  کو لوٹانالازم ہے ،اور اس واجب الادا رقم کو انکم ٹیکس یا سیل  ٹیکس کی مد میں نہیں  سمجھ سکتا ،بلکہ باقاعدہ ادا کرےگا،تاہم  اگر یہ چھٹی اور رخصت  ادارے کی سربراہ کی اجازت سے ہو،اور وہ سربراہ   اس قسم کی رخصت کا قانونا مجاز ہو،تو پھر اس صورت  میں  تنخواہ کی واپسی لازم نہ ہوگی۔

 

(والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) أي الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل سمي أجيرا خاصا وأجير وحد؛ لأنه يختص به الواحد وهو المستأجر وليس له أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بها فيستحقه ما لم يمنعه من العمل مانع حسي كالمرض والمطر ونحو ذلك مما يمنع التمكن من العمل (تبیين الحقائق ،باب الخلع،ج:5،ص137)


فتویٰ نمبر : 4660/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں