بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 14/08/2026 |
دارالافتاء
مشترکہ گھر میں تعمیر کرنے کا خرچہ دوسرے ورثا سے طلب کرنا
سوال
میرے والد صاحب 2000ء میں وفات ہو چکے ہیں۔میری پانچ بہنیں ہیں جو شادی شدہ ہیں اور اپنے گھروں میں رہتی ہیں ۔ہم تین بھائی ہیں۔ایک بھائی کا والد کی وفات کے بعد انتقال ہو گیاہے۔ایک امریکہ میں رہتا ہے ۔والد صاحب کے چھوڑے گھر میں صرف والدہ اور بڑا بھائی رہتے ہیں ۔بڑے بھائی کے دو بیٹے ہیں جو شادی شدہ ہیں وہ بھی اسی گھر میں رہتے ہیں ۔والدہ کی کفالت بڑا بھائی کرتا ہے ۔گھر کے علاوہ والد صاحب نے کچھ زمین اور رقم بھی چھوڑی ہے جوکہ والدہ کے پاس ہے۔والدہ چاہتی ہے کہ گھر بڑا بھائی خریدے، لیکن وہ اسے مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پرلینا چاہتا ہےجس پر دوسرے بہن بھائی راضی نہیں ہیں ،اس لیے مکان نہیں بک رہا۔1۔بڑے بھائی نے گھر میں ورثا کی اجازت کے بغیر کچھ تعمیر کی ہے۔کیا وہ اس کے پیسے گھر کی قیمت سے کاٹ سکتا ہےیا نہیں؟2۔کیا تمام جائیداد کی تقسیم فوری طورپرکرنی چاہیے ؟3۔کیا شریعت کی رو سےبڑے بھائی کو ورثا کو کرایہ ادا کرنا ہوگا؟جتنا عرصہ وہ وہاں رہتا ہے۔
جواب
واضح رہے کہ والد کی وفات کے بعد اس کی متروکہ جائیداد قبل از تقسیم ورثا کی مشترک ملک ہوتی ہے اور فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کوئی شریک اپنے شرکا کی اجازت سے ملک ِمشترک کی مرمت اور تعمیر وغیرہ کے لیے اس پر رقم خرچ کرے تو خرچہ تمام شرکا پر ان کے حصص کے بقدر لازم ہوگا،لیکن اگر کسی شریک نے دیگر شرکا کی اجازت کے بغیر ملک مشترک پر خرچہ کیا اور وہ ملک مشترک قابل تقسیم بھی ہو تو یہ اس کی طرف سے تبرع واحسان متصور ہوگا،جس کا وہ اپنے شرکا سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ نیز اگر کوئی شریک مشترکہ گھر میں دوسرے ورثا کی اجازت کے بغیر سکونت اختیار کرے، تو اس صورت میں وہ اپنے ہی حصے میں رہائشی متصور ہوگا ، اس لیے دوسرے شرکا کے لیے اس سے کرایہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں 1-اگر بڑے بھائی نے دیگر ورثا کی اجازت کے بغیر والد کے متروکہ گھر میں اپنے ذاتی خرچہ سے کچھ تعمیر کی ہو تو شرعا اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ تعمیر پر لگائی گئی رقم کا دیگر ورثا سے مطالبہ کرے ، بلکہ وہ اس صورت میں متبرع شمار ہوگا۔ تاہم اگر اس نے یہ تعمیر اپنے لیے کی ہو تو یہ تعمیر اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی دیگر ورثا اس کے ساتھ اس میں شریک نہیں ہوں گے،چنانچہ اگر بڑا بھائی خود یہ گھر خریدنا چاہے تو اس صورت میں جو تعمیر اس نے کی ہے وہ اس کی اپنی ذاتی ملکیت ہے،لہذا اس تعمیر کے علاوہ باقی گھر کی قیمت ادا کر کے اس کو خرید سکتا ہے۔
2-میراث کی تقسیم فوری کرنی چاہئے اس میں تاخیر مناسب نہیں ہے ،کیونکہ بسا اوقات تاخیر سے کئی مسائل اور تنازعات پیدا ہو جاتے ہیں۔
3۔اگر دیگر ورثا نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ گھر میں رہنے کی صورت میں کرایہ کا کوئی عقد پہلے سے نہ کیا ہو تو ورثا کے لیے اس سے کرایہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔تاہم اگر آئندہ کے لیے ان سے عقد ہو جائے کہ وہ آپ کے حصے میں سکونت اختیار کرنے کا آپ کو کرایہ دیا کریں تو اس صورت میں آئندہ کے لیے کرایہ وصول کیا جا سکتا ہے۔
إذا عمر أحدالشریکین الملك المشترك ففي ذالك احتمالات أربعة ۔۔۔الاحتمال الثاني :إذا عمر أحدالشریکین المال المشترك للشركة بدون إذن الشریك كان متبرعا۔۔۔۔الاحتمال الرابع:إذا عمر أحدالشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغيرالمستهلكة،مالم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذاالحال يمنع من رفعها۔(دررالحكام في شرح مجلةالأحكام،الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة،الفصل الاول في تعميرالأموال المشتركة۔۔۔إخ،المادة1309،ج2،ص315)
أما أحد الشريكين إذا سكن مدة في الدار بدون إذن الأخر فيعد ساكنا في ملك نفسه فمن ثم لا يلزم الأجرة لأجل حصة شريكه ۔۔۔ولكن لو حضرالشريك الأخر وتقاضى الأجر من الشريك الساكن فسكن بعد لزمه الأجر عن حصة شريكه۔(شرح المجلة لخالد الأتاسي،الباب الأول في بيان شركة الملك،الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة،المادة1075،ج4،ص17)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں