بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مزدوری کے لیے پردیس جانا


سوال

جو لوگ مزدوری کے لیے  پردیس  جاتے ہیں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ان سے اللہ تعالی ناراض  ہوتا ہےکیا یہ سچ ہے ؟

جواب

         واضح رہے کہ حلال کمانا بھی دوسرے  فرائض کے بعد ایک فرض ہے ۔جس کے لیے شریعت نے کسی مکان اور جگہ  کی قید  نہیں لگائی ہے بلکہ عام اجازت دی ہے کہ جہاں چاہو رزق ِحلال تلاش کرو البتہ مزدوری اور ملازمت کے لیے پردیس کی طرف سفر اگر کسی اسلامی ملک کی طرف ہو تو درجہ ذیل شرائط کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے (1)اگر والدین زندہ  ہو ں تواس کی خدمت کے محتاج نہ ہوں   بلکہ ان کی خدمت کا متبادل انتظام موجود ہو۔(2) بیوی ،بچوں کے دیکھ بھال ،نان نفقہ اور تربیت اولادکا بھی انتظام  موجود ہو۔ (3)سفر اگر چار ماہ سے زیادہ ہوتو بیوی کی اجازت اور رضامندی ضروری ہےاگران شرائط میں سےکوئی شرط مفقودہو تو پھر سفر نہ کیاجائے ۔

اوراگر سفر غیر اسلامی ملک کی طرف ہو تو   مذکورہ بالا شرائط کے علاوہ چنددیگرشرائط بھی ضروری ہیں:(1) دین کا اتنا علم ہو  کہ جس کے ذریعے وہ شکوک و شبہات کو دور کرسکے اور اپنے آپ  کو غیر مسلم معاشرہ  کے منفی اثرات سے بچا سکے ۔(2) دینی اعتبار سے اتنا پختہ اور ثابت قدم ہو کہ شہوات اور جنسی خواہشات  میں پڑنے سے بچ سکے۔(3)ان ممالک  کی طرف سفر کرنے کا  شدید محتاج اور ضرورت مند ہو ۔

اگر یہ شرائط پوری نہ ہو ں تو ایک مسلمان کے لیے غیر  اسلامی ملک کی جانب  سفر نہیں کرنا  چاہیے،چنانچہ  اگر کسی شخص کو اپنے ملک میں اس قدر معاشی وسائل حاصل ہو جس سے اس کا گزر بسر ہو سکتا ہوتو اس لیے  بہتر یہی ہے کہ وہ پردیس جاکر خود کو آزمائش میں نہ ڈالے بلکہ  اپنے ملک میں رہ کر محنت ومزدوری کرے ۔ 

قال الله تعالى:هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فِي مَناكِبِها وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ (الملك:15)

قوله تعالى:(فَامْشُوا فِي مَناكِبِها) هُوَ أَمْرُ إِبَاحَةٍ، وَفِيهِ إِظْهَارُ الِامْتِنَانِ. وَقِيلَ: هُوَ خَبَرٌ بِلَفْظِ الْأَمْرِ، أَيْ لِكَيْ تَمْشُوا فِي أَطْرَافِهَا وَنَوَاحِيهَا وَآكَامِهَا وَجِبَالِهَا.(الجامع لأحكام القرآن للقرطبي،ج18،ص215)

وعلى ذلك جرت العادة من تجار الأعصار، أنهم يدخلون دار الحرب للتجارة من غير ظهور الرد والإنكار عليهم، إلا أن الترك أفضل؛ لأنهم يستخفون بالمسلمين، ويدعونهم إلى ما هم عليه، فكان الكف والإمساك عن الدخول من باب صيانة النفس عن الهوان، والدين عن الزوال، فكان أولى.(بدائع الصنائع،كتاب السير،فصل في بيان ما يكره حمله إلى دار الحرب،ج9ص401)

وقال محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه وماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب السادس والعشرون في الرجل يخرج إلى السفر،ج5ص365)


فتویٰ نمبر : 4665/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں