بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کا دودھ پینا


سوال

  کیا بیوی کا دودھ پینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے انسان اور اس کے سب اعضاء واجزاءقا بل عزت واحترام ہیں،چونکہ عورت کا دودھ بھی اس کےبدن کا ایک جزء ہے،اس لیے عورت کے دودھ کو  بلا ضرورت استعمال کرنا جائز نہیں۔مدت رضاعت میں ضرورت کی بناء پر بچے کی نشونما کی خاطر شریعت  نے اس کی اجازت دی ہے ،لیکن مدت رضاعت کے بعد یہ ضرورت باقی نہیں رہتی،اس لیے مدت رضاعت کے بعد کسی بھی انسان کے لیے (چاہے بچہ ہو یا بالغ)کسی عورت کا دودھ  پینا جائزنہیں ،لہذا شوہر کے لیے بھی اپنی بیوی کا دودھ پینا شرعا حرام ہے،البتہ اگر کوئی  پی  لے تو اس سے میاں بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

(ولم يبح الارضاع بعد مدته) لانه جزءآدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح.( الدر المختار علی صدر ردالمحتار ،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج 1، ص 398)

إذا مص الرجل ثدي امرأته وشرب لبنها لم تحرم عليه امرأته لما قلنا أنه لا رضاع بعد الفصال۔(فتاویٰ قاضیخان،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج 1،ص 362)


فتویٰ نمبر : 6253/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں