بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
1200آبادی والے گاؤں میں جمعہ کی نماز کا حکم
سوال
اس مسئلہ کے بارے مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں تقریبا 1100 ۔1200 آبادی ہے (اپنےملحقات کیساتھ)۔اور اس گاؤں میں ایک سکول اور ایک دینی مدرسہ ہے،اور 3 راشن سٹور ہیں، اور ایک ٹیلر کى دکان ہے۔ اور اس گاؤں میں بجلی گیس اور پختہ روڈ ہے،اور ایک ڈھیری فارم ہے۔ اور ہمارا یہ گاؤں بازار سے تقریبا 1.5 کلومیٹر دور ہے۔ اور ہم اپنى تمام ضروریات تقریبا اس سے پوری کر سکتے ہيں۔اور ایک کلو میٹر کے فاصلے پر دوسرا گاؤں ہے ،اور اس گاؤں میں نماز جمعہ ادا ہو رہا ہے اور یہ بازار سے تقریبا متصل ہے۔ ہماری اور اس گاؤں کے درمیان جو زمین ہے وہ امیروں(یعنی وڈھیروں) کى ہے،اور سو سال کے بعد بھی كوئى اسے نہیں خرید سکتا، تو اس وجہ سے ہمارا گاؤں اس گاؤں سے جدا ہے ۔نىز واضح رہے كہ ہمارے گاؤں میں عیدین کی نماز تقريبا 40 سال پہلے شروع ہوئى تھى لیکن دوبارہ بند ہوئ۔اب دريافت طلب امر يہ ہے كہ کیا ہمارے اس گاؤں میں نماز جمعہ جائز ہے یانہیں ۔اس میں ہمارى رہنمائی فرمائيں۔
جواب
نماز جمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہے وہ جگہ شہر ہو یا توابع شہر میں سے ہو یا بڑا گاوں ہو ۔ بڑے گاؤں کی تعریف فقہائے کرام نے اپنے اپنے وقت كے حالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے ۔ موجودہ دور میں جس گاؤں کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور روز مرہ کی ضروریات اس میں میسر ہوں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا ۔ اور توابع شہر سے شہر کے مضافات میں واقع وه آبادی مراد ہے جو مستقل گاؤں نہ ہو ، بلکہ عرف میں شہر کے تابع شمار کی جاتی ہو، چنانچہ جو آبادی شہر سے باہر ہو اور مستقل گاؤں کی حیثیت رکھتی ہو اور عرف میں بھی اسے مستقل گاؤں شمار کیاجاتا ہو، تو اگر وہ خود بڑا گاؤں نہ ہو تو اس میں نماز جمعہ جائز نہیں ۔
صورت مسئولہ میں چونکہ مذکورہ گاؤں کی اپنی آبادی کم ہے، اورحسب سوال یہ توابع شہر میں سے بھی نہیں ہے، اس و جہ سے اس گاؤں ميں نماز جمعہ كى ادائيگى درست نہ ہو گى ۔ تاہم وہاں کے مقامی علماء کرام و مفتیان حضرات سے بھی اس سلسلے میں رائے طلب کی جائے، کیونکہ وہ اس گاؤں کی حیثیت سے بہتر واقف ہوں گے۔
(ويشترط لصحتها)سبعة أشياء الأول(المصر...(أوفناؤه)بكسرالفاء(وهوما)حوله(إتصل به)أولا(لأجل مصالحه)كدفن الموتى وركض الخيل ۔۔۔( الدر المختار ، کتاب الصلوة ، باب الجمعة ، ج 1 ص 109)
وعبارة القهستاني: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج٣، ص٦، دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
ومن كان مقيما بموضع بينه و بين المصر فرجة من المزارع و المراعي نحو القلع ببخاری، لا جمعة على أهل ذلك الموضع ..... هكذا روى الفقيه أبو جعفر عن أبي حنيفة و أبي يوسف رحمهما الله، وإختيار شمس الأئمة الحلواني.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السادس عشر: في صلاة الجمعة، ج١، ص٢٠٥، دارالفكربيروت لبنان)
ولو كان بين الموضع و بين عمران المصر فرجة من المزارع و المراعي نحو القلع ببخارى، فلا جمعة على أهل ذلك الموضع.(فتاوى قاضيخان، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج١، ص١٥٥، دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں