بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ماں،ایک بیٹےا ور سات بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ والدہ صاحبہ کا انتقال ہواہے۔ والد صاحب کا پہلے سے انتقال ہوچکا ہے۔ ایک ہی بھائی ہوں اور سات بہنیں ہیں نانی اماں حیات ہیں اور تین ماموں اور دو خالہ ہیں براے مہربانی وراثت کی تقسیم میں ہر ایک کا حصہ بتادیں۔

جواب

میــــــــــــــــــــــــ(54)ـــــــــــــــــــــــــــت

 ماں  بیٹا   بیٹی  بیٹی  بیٹی   بیٹی  بیٹی  بیٹی   بیٹی  

 9    10    5    5     5      5     5     5     5     

بشرطِ صدق و ثبوت اگر مرحومہ کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحومہ کا کل ترکہ 54  برابرحصوں میں تقسیم کر کےماں کو 9/54 حصے , بیٹے کو 10/54 حصے، اور بیٹیوں میں سے ہر ایک  بیٹی کو 5/54 حصے دیے جائیں گے۔ جب کہ اولاد کی  موجودگی  میں  مرحومہ کے بہن بھائیوں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔

  قال اللہ تعالی: ﴿يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين﴾. (النساء، 11)

  وقال: ﴿ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد﴾. (النساء، 11)


فتویٰ نمبر : 4132/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں