بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی ماں کو زکوۃ دینا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا رضاعی ماں کو زکوۃ دینا جائز ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ اپنے نسبی والدین یا نسبی اولاد کوزکوۃ دینا جائز نہیں اگر چہ وہ مستحق ہی کیوں نہ ہوں، البتہ اپنے رضاعی والدین یا رضاعی اولاد کو زکوۃ دینا جائز ہے بشرطیکہ وہ مستحق ہوں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر رضاعی ماں مستحقِ زکوۃ ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے۔

 قوله ( وإلى من بينهما ولاد ) أي بينه وبين المدفوع إليه لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال هداية والولاد بالكسر مصدر ولدت المرأة ولادة وولادا  مغرب أي أصله وإن لا كأبويه وأجداده وجداته من قبلهما وفرعه وإن سفل بفتح الفاء من باب طلب والضم خطأ لأنه من السفالة وهي الخساسة  مغرب كأولاد الأولاد وشمل الولاد بالنكاح والسفاح فلا يدفع إلى ولده من الزنا ولا إلى من نفاه كما سيأتي. (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوۃ، باب المصرف، ج:2 / ص: 345) 


فتویٰ نمبر : 8817/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں