بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کاطریقہ


سوال

 سجدہ سہو کے مسنون طریقہ کے متعلق راہنمائی فرمائیں۔

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے جب نماز میں کوئی واجب چھوٹ جائے،  یا کسی واجب میں تاخیر یا تکرار  ہو جائے، یا کسی فرض میں تاخیر ہوجائے تو نماز پڑھنے والے پر سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے، جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں تشہد پڑھنے کے بعدصرف دائیں جانب سلام  پھیر کر  دو سجدے کر لے،اور ہر سجدے میں حسبِ معمول تسبیح (سبحان ربی الاعلی) پڑھے، اس کے بعد پھر بیٹھ کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں جانب سلام پھیر لے۔

 

          وكيفيته أن يكبر بعد سلامه الأول ويخر ساجدا ويسبح في سجوده ثم يفعل ثانيا كذلك ثم يتشهد ثانيا ثم يسلم كذا في المحيط ويأتي بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء في قعدة السهو هو الصحيح.(الفتاوی الہندیۃ، کتاب الصلوۃ، باب فی سجود السہو، ج: 1/ ص: 185)


فتویٰ نمبر : 8815/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں