بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

شیعہ کی نماز جنازہ میں شریک ہونا


سوال

میرے ایک دوست جو سنی حنفی مسلمان ہے اس نے ایک شیعہ کى نماز جنازہ پڑھ لی ہے کیا اس کا نکاح ٹوٹ گیا ہے یا نہیں؟

جواب

             فقہائے کرامؒ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ  علی الاطلاق کافر نہیں ،بلکہ جن کے عقائد کفر کی حد تک پہنچے ہوں ، مثلا وہ قرآن پاک میں تحریف کے قائل ہوں یا حضرت علی رضی  اللہ عنہ کو معبود  مانتے ہوں ،یا حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنہ کی صحابیت کے منکر ہوں ،یا  جبرئیل علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ ان  سے وحی  پہنچانے میں غلطی ہو گئی یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگاتے ہوں ،وہ اسلام  سے خارج ہیں  البتہ وہ فرقہ جس کے عقائد کفر کی حد تک نہ پہنچےہوں،انہیں کافر نہیں کہا جا سکتا۔

        صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی شیعہ  کے کفریہ عقائد  پر مطلع ہونے کے  باوجود   اس کی نماز جنازہ پڑھے تو ایسے شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر توبہ واستغفار کرےاور آئنده ايسے قبیح فعل کے ارتکاب سے اجتناب کرےتا ہم اگر کوئی کسی دنیاوی غرض سے یا سیاسۃ یا رسما ان کی  نماز جنازہ پڑھے تو دائرہ اسلام  سے خارج شمار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے نکاح  ٹوٹتا ہے  البتہ گناہ گارضرور ہوگا کیونکہ فقہائے کرام نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے اس لیے حرام کے ارتکاب سے گناہ گار ہوگا ۔

 

قال الله تعالي:﴿  وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾(التوبة:84)

لا يصلى على الكافر لقوله تعالى:﴿ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ﴾ (التوبة:84) وروي أنه لما مات أبوطالب جاء علي رضي الله عنه إلى رسول الله عليه السلام وقال:إن عمك الضال قد مات فقال عليه السلام :"اغسله وكفنه وادفنه وما تحدث به حدثا حتى تلقاني"،أي: لا تصل عليه،ولأن الصلاةعلى الميت دعاء واستغفارله،والاستغفارللكافر حرام۔(المحيط البرهاني،كتاب الصلاة،الفصل الثاني الثلاثون في الجنائز،القسم الثالث في بيان من يصلي عليه ومن لا يصلي عليه،ج:2،ص:314)

نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة رضي الله تعالى عنها أو أنكر صحبة الصديق أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن ۔ ۔ ۔  وأما الرافضي ساب الشيخين بدون قذف للسيدة عائشة ولا إنكار لصحبة الصديق ونحو ذلك فليس بكفر فضلا عن عدم قبول التوبة بل هو ضلال وبدعة۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الجهاد،باب المرتد،مطلب مهم في حكم سب الشيخين،ج:6،ص:378)


فتویٰ نمبر : 8902/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں