بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جنازہ حاضر ہونے کےبعدوعظ/ذکر کی تلقین کا حکم


سوال

اگر کہیں پر نمازِجنازہ کے لیے وقت مقرر ہو اور اس مقررہ وقت سے پہلے جنازہ گاہ میں جنازہ حاضر کیا جائے تو ایسے وقت میں کسی عالم/دیندار شخص کے لیے وعظ یا لوگوں کو ذکر کی ترغیب دینا جائز ہے یا نہیں ؟نیز اس تاخیر سے کراہت لازم ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

کسی مسلمان کی نمازِجنازہ میں شرکت کرنا ،اس کے حقوق میں شامل ہے۔لوگوں کو نمازِجنازہ میں موقع فراہم کرنے کے لیے پہلے سے وقت متعین کرنا ایک مستحسن امر ہے اور اس مقررہ وقت پر نمازِجنازہ  کا اہتمام کرنے میں کوئی حرج نہیں ،البتہ کسی معقول عذر کے بغیر بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے اس لیے کہ تجہیز،تکفین اور تدفین میں جلدی کرنا  بہر صورت افضل ہے ۔

        صورتِ مسؤلہ میں اگر نمازِجنازہ کے لیے پہلے سے وقت متعین کیا گیا ہو اور حسبِ سوال جنازہ گاہ میں جنازہ مقررہ وقت سے کچھ دیر پہلے حاضر ہو جائے تو مقررہ وقت تک نمازِجنازہ کے لیے آنے والے لوگوں کا انتظار کرنا  جائز ہے ۔نیز اس وقت میں اگر کوئی عالم اصلاح کی خاطر لوگوں کو وعظ ونصیحت کرے یا ان کو ذکر(یادِخداوندی)کی تلقین کرے تو شرعاً یہ جائز ہے بشرطیکہ اس وقت میں وعظ کو یا کسی مخصوص ذکر کو لازم نہ سمجھا جائے اور سنت یا مستحب کا درجہ نہ دیا جائے ۔

 عن جابر رضي الله عنه، قال النبي صلى الله عليه وسلم حين مات النجاشي: «مات اليوم رجل صالح، فقوموا فصلوا على أخيكم أصحمة»۔(صحيح البخاري،كتاب المناقب،باب بنيان الكعبةج1ص547)

صلاة الجنازة لا يتعين لأدائها وقت ففي أي وقت صليت وقعت أداء لا قضاء۔(بدائع الصنائع،كتاب الصلوة،ج2ص350)

ويستحب أن يعلم جيرانه وأصدقاؤه حتى يؤدوا حقه بالصلاة عليه والدعاء له كذا في الجوهرة النيرة وكره بعضهم النداء في الأسواق والأصح أنه لا بأس به كذا في محيط السرخسي۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الحادي والعشرون في الجنائز،الفصل الأول في المحتضر،ج1ص157)


فتویٰ نمبر : 8791/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں