بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

معالج کا جنسی امراض کے شکار مریضوں کا علاج کرنا


سوال

ایک شخص کاتعلق شعبہ صحت سےہے،اس کےپاس ہرقسم کےمریض آتےہیں، مثلا:جلق(ہاتھ کےذریعےانزال کرنےوالے) ،زناکرنے والے،اسی طرح حمل ضائع کرنےوالے،ان تمام مریضوں کودوائی دیناکیاتعاون علی المعصیتہ ہےیانہیں ؟خصوصاایک آدمی ہماری دوائی لےکرغلط کام کرے؟

جواب

واضح رہےکہ معالج(ڈاکٹریاحکیم)جب کسی مریض کاعلاج کرتاہےتواس کی نظرمرض پرہوتی ہےاورمرض کےخاتمےکےلیےوہ دوائیاں وغیرہ تجویزکرتاہے،اس لیےاگروہ کسی مرض کاعلاج کرےاورمریض ٹھیک ہوکرکسی معصیت میں مبتلاہوجائےتواس میں چونکہ  معالج کاکوئی عمل دخل نہیں ہوتا،اس لیےاس معصیت کاوبال معالج پرنہیں ہوگا،بلکہ خود مریض گناہگارشمارہوگا۔

جہاں تک حمل ضائع کرنےکاتعلق ہےتوحمل کےضیاع میں چونکہ معالج کابراہ راست عمل دخل ہوتاہے،اس لیےجن حالات میں حمل ضائع کرنےکی شرعااجازت نہیں ہے،ان صورتوں میں حمل ضائع کروانےسےمعالج گناہگارشمارہوگا،البتہ جن حالات میں حمل ضائع کرنےکی شریعت نےرخصت دی ہے،ایسی صورت میں علاج کرناقابل ملامت نہیں ہے۔

قال تعالی:﴿تعاونواعلی البروالتقوی ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان﴾(المائدۃ/2)

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ، وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ»۔ (أخرجه أبوداود، کتاب الطب، باب فی الأدويةالمکروية، رقم الحدیث:3874، ج:2، ص:1084، البشري)

إذااجتمع المباشروالمتسبب يضاف الحكم إلى المباشر۔(شرح المجلة، لخالدالأتاسي، المادة:90، ج:1، ص:249، المكتبةالحبيبية)

ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر۔(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار، کتاب الحظروالإباحة، باب الاستبراءوغیرہ، ج:9، ص:615، دارالکتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4635/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں